اقوامِ متحدہ میں ڈرونز پر قرارداد کی منظوری

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں متفقہ طور پر منظور کی جانے والی ایک قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ڈرون طیاروں کے استعمال پر عالمی قوانین کی پابندی کی جانی چاہیے۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے جمعرات کو جاری ہونے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے ہم خیال ممالک کی مدد سے اس قرارداد میں ڈرون حملوں کا معاملہ شامل کروایا ہے۔
بیان کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ اقوامِ متحدہ کی کسی قرارداد میں ڈرونز کا ذکر آیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کی قرارداد میں رکن ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ڈرونز کے استعمال سمیت انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات کرتے ہوئے عالمی قوانین، اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور حقوقِ انسانی کے قوانین کی پاسداری کریں۔
قرارداد میں بغیر پائلٹ کے جاسوس طیاروں کے استعمال پر ریاستوں کے درمیان فوری اور ضروری معاہدوں کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے رواں برس ستمبر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں بھی پاکستانی سرزمین پر امریکی ڈرون طیاروں کی کارروائیوں کا معاملہ اٹھایا تھا۔
ڈرون حملوں پر پاکستان کا موقف رہا ہے کہ یہ ملکی خودمختاری اور سلامتی کی خلاف ورزی ہیں اور ان سے شدت پسندی کے خلاف جنگ پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری جانب امریکہ کا موقف ہے کہ ڈرون حملے شدت پسندی کے خلاف جنگ میں موثر ہتھیار ہیں اور ان کا استعمال قانونی ہے۔
ڈرونز کا معاملہ حال ہی میں پاکستان کا دورہ کرنے والے امریکی وزیرِ دفاع چک ہیگل کی پاکستانی حکام سے ملاقاتوں میں بھی زیرِ بحث آیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھی حملوں کے خلاف پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں برسرِاقتدار جماعت تحریک انصاف نے 23 نومبر سے احتجاجاً دھرنے دے کر طورخم کے راستے نیٹو افواج کے لیے سامان کی افغانستان ترسیل کا عمل بھی بند کروا دیا ہے اور یہ بندش تاحال جاری ہے۔
پاکستان میں ڈرون حملوں کا سلسلہ 2006 سے شروع ہوا تھا اور اب تک ان حملوں میں القاعدہ اور تحریکِ طالبان پاکستان کے اہم رہنماؤں کے علاوہ سینکڑوں دیگر افراد بھی ہلاک ہوئے ہیں۔







