شدت پسند امریکی شہری کو’ماریں یا نہ ماریں‘ پر بحث

امریکی انتظامیہ اس امریکی شہری کا نام اور مقام کی نشاندہی نہیں کر رہی

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنامریکی انتظامیہ اس امریکی شہری کا نام اور مقام کی نشاندہی نہیں کر رہی

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی صدر براک اوباما کی انتظامیہ اس بات پر غور کر رہی ہے کہ آیا اس امریکی شہری کو ہلاک کیا جائے جس کے القاعدہ کے ساتھ روابط ہیں اور جو امریکہ میں شدت پسند کارروائی کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

امریکی خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس نے انتظامیہ کی درخواست پر اس ملک کی نشاندہی نہیں کی جس ملک میں یہ امریکی شہری موجود ہے۔ تاہم امریکی ٹی وی چینل سی این این نے کا کہنا ہے کہ یہ امریکی شہری پاکستان میں موجود ہے۔

امریکی انتظامیہ اس امریکی شہری کا نام اور مقام کی نشاندہی نہیں کر رہے کیونکہ ان کو خدشہ ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کرے گا اور ممکنہ ڈرون حملے میں بچ جائے گا۔

تاہم اوباما انتظامیہ میں اس امریکی شہری کے بارے میں بحث جاری ہے۔ یہ بحث صدر اوباما کی جانب سے ڈرون حملوں کے بارے میں سخت ہدایات کے پیش نظر ہو رہی ہے۔

اے پی کے بقول سی آئی اے ڈرون حملہ کر نہیں سکتا کیونکہ اس کو امریکی شہری کو ہلاک کرنے کی اجازت نہیں۔ دوسری جانب وزارتِ دفاع ڈرون حملہ اس لیے نہیں کر سکتی کہ یہ امریکی شہری دوسرے ملک میں پناہ لیے ہوئے ہے۔

امریکی حکام نے نام نہ بتانے کی شرط پر اے پی کو بتایا کہ امریکی شہری اس ملک میں موجود ہے جو امریکی فوج کی زمینی کارروائی کی اجازت نہیں دیتا جبکہ صدر اوباما کی نئی ہدایات کے مطابق کسی دوسرے ملک میں امریکی شہری کے خلاف صرف فوج کارروائی کر سکتی ہے نہ کہ سی آئی اے۔

امریکی حکام نے اے پی کو بتایا کہ یہ امریکی شہری بہت محفوظ مقام پر ہے جو ایک دور دراز علاقہ ہے۔ اس علاقے میں امریکی یک طرفہ کارروائی خطرے سے خالی نہیں ہے اور سیاسی طور پر میزائل حملے سے کہیں زیادہ خطرناک۔