’نئے برق رفتار جیٹ ڈرون استعمال کے لیے تیار‘

روایتی ڈرون سے جیٹ ڈرون کئی گنا زیادہ تیز رفتار ہوں گے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنروایتی ڈرون سے جیٹ ڈرون کئی گنا زیادہ تیز رفتار ہوں گے

امریکہ میں اوباما انتظامیہ متبادل ہنگامی منصوبے کے تحت وسطی ایشیائی ریاستوں میں ڈرون طیاروں کے اڈے حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ اگر 2014 کے بعد اسے افغانستان سے اپنے تمام فوجی بلانا پڑ جائیں تب بھی پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجودہ القاعدہ عناصر پر ڈرون حملے جاری رکھے جا سکیں۔

امریکی اخبار لاس اینجلس ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ متبادل اڈے حاصل کر لینے کے باوجود افغانستان میں موجود اڈوں کے ہاتھ سے نکل جانے کے بعد امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی پاکستان کے انتہائی دشوار گزار قبائلی علاقوں میں القاعدہ کے اہداف کی نشاندہی اور ان اہداف پر فوری طور پر حملہ کرنے کی صلاحیت بری طرح متاثر ہو گی۔

امریکہ اور کرزئی حکومت میں 2014 کے بعد افغانستان میں امریکی فوجوں کی موجودگی کے بارے میں معاہدے کی توثیق پر تعطل کا بڑا نقصان سی آئی اے کے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ کے شدت پسندوں کو ہدف بنا کر نشانہ بنانے کے پروگرام کو پہنچے گا۔

صدر کرزئی نے 2014 کے بعد طویل عرصے تک افغانستان میں امریکی فوجیوں کی موجودگی کے باہمی سکیورٹی کےمعاہدے کی توثیق کرنے سے انکار کر دیا ہے اور وائٹ ہاؤس کے بعض مشیر مکمل انخلا پر زور دے رہے ہیں۔

سی آئی کے موجودہ اور سابق اہلکاروں کے مطابق سی آئی اے پاکستان کی سرحد کے قریب واقع محفوظ چوکیوں سے الیکٹرانک انٹیلی جنس کا جائزہ لیتے ہیں جبکہ ’کیس آفیسر‘ ان اہداف کی نشاندہی میں ان کی مدد کرتے ہیں۔ سی آئی اے پیسے دے کر اپنے اہداف کے زیر استعمال گاڑیوں اور عمارتوں میں جی پی ایس ٹریکر لگواتی ہے جن کی مدد سے میزائل مقررہ اہداف تک پہنچتے ہیں۔

ایک سرکاری اہلکار نے اخبار کو بتایا کہ انسانی ذرائع سے جمع کی جانے والی معلومات کا اس سارے عمل میں بڑا اور اہم حصہ ہے جن سے ڈرون حملے ممکن ہوتے ہیں اور انسانی معلومات اکٹھی کرنے میں یہ اڈے اس لیے بہت اہمیت رکھتے ہیں۔

اخبار مزید لکھتا ہے کہ بہت سے سرکاری اہلکاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکی فوج کی حفاظت کے بغیر سی آئی افغانستان کے ہوائی اڈوں سے ڈرون حملے جاری نہیں رکھ سکتی۔ اگر یہ اڈے خالی کرنا پڑ گئے تو سی آئی اے کو اپنے ریپر اور پریڈیٹر ڈرون کے فلیٹ کو افغانستان کے شمال میں اڈوں پر منتقل کرنا پڑ جائیں گے۔ تاہم ان حکام نے ان ملکوں کا نام نہیں لیا جہاں یہ اڈے منتقل کیے جا سکتے ہیں۔

پاکستان میں ڈرون حملوں کی عوامی سطح پر مخالفت پائی جاتی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنپاکستان میں ڈرون حملوں کی عوامی سطح پر مخالفت پائی جاتی ہے

ایک سرکاری اہلکار نے کہا کہ متبادل ہنگامی منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ چک ہیگل نے اس ماہ اس بات کا پہلی مرتبہ اعتراف کیا کہ حکام مختلف اڈے حاصل کرنے پر غور کر رہی ہے۔

ایک پریس کانفرنس میں انھوں نے کہا کہ وہ ڈرون حملوں اور خفیہ معلومات حاصل کرنے کے بارے ان کے کیا منصوبے ہیں، وہ ان کی تفصیلات میں نہیں جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ آپ کہاں اپنے اثاثے لگائیں گے، کہاں کیا خطرات پیش آ رہے ہیں اور کہاں آپ کے اتحادی آپ کے ساتھ تعاون پر تیار ہیں اس بارے میں آپ اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے رہتے ہیں۔

میساچوسٹس یونیورسٹی کے پروفیسر اور ’پریڈیٹر، سی آئی ڈرون وار آن القاعدہ‘ کتاب کے مصنف برین گلن ولیم کا کہنا ہے کہ سی آئی اے اور فوج 2005 سے پہلے ازبکستان سے ڈرون پروازیں کرتے رہے ہیں۔

امریکی فوج قرغیزستان میں اڈے سے فوج اور اسلحے کی فضائی راستے سے ترسیل کرتی رہی ہے۔ پینٹاگن نے گذشتہ سال کہا تھا کہ وہ یہ آپریشن رومانیہ منتقل کر رہا ہے۔

تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبہ میں امریکی سفارت خانے کے مطابق گذشتہ ماہ مشرق وسطی اور وسطی ایشیا میں امریکی خصوصی دستوں کے کمانڈر میجر جنرل مائیکل کے نگاتا نے تاجکستان کا دورہ کیا جہاں انھوں نے باہمی سیکیورٹی تعاون اور فوجی تعاون کو جاری رکھنے پر بات کی۔

بین الاقوامی سطح پر بھی ڈرون طیاروں کے استعمال کے بارے میں مخالفت پائی جاتی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنبین الاقوامی سطح پر بھی ڈرون طیاروں کے استعمال کے بارے میں مخالفت پائی جاتی ہے

امریکی حکام نے اس بات پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا کہ کیا وہ تاجکستان میں ڈرون اڈے اور ڈرون اڑنے کی اجازت حاصل کر رہا ہے جن اڈوں کو وہ اپنی فوجیوں اور اسلحہ کی ترسیل جاری رکھنے میں بھی استعمال کر سکے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ روس وسطی ایشیا کی ریاستوں میں امریکی اڈوں کی شدید مخالفت کر ے گا۔

حکام کا کہنا ہے نئے تیز رفتار جیٹ ڈرون، جن کو پریڈیٹر سی اور ایوینجر بھی کہا جاتا ہے، افغانستان سے باہر بنائے جانے والے اڈوں سے استعال کیے جائیں گے۔ پروفیسر ولیم کا کہنا ہے کہ یہ ایوینجر ڈرون اپنے اہداف تک روایتی ڈرون طیاروں سے زیادہ تیزی سے پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور کسی حد اڈے دور ہونے سے پیدا ہونے والی مشکل کو آسان کر سکتے ہیں۔

یہ جیٹ ڈرون جنرل اٹامکس کمپنی نے تیار کیے ہیں اور اس کا کہنا ہے کہ یہ جنگی استعمال کے لیے تیار ہیں۔

امریکی شہر سین ڈیاگو میں قائم اس کمپنی نے نمونے کے چار ڈرون تیار کر لیے ہیں۔

گذشتہ کچھ عرصے میں پاکستان پر ڈرون طیاروں کے حملوں میں کمی ہوئی ہے۔ 2010 میں 117 ڈرون حملے ہوئے تھے، جبکہ گذشتہ سال صرف 28 حملے کیے گئے۔

انسدادِ دہشت گردی کے منصوبہ سازوں کے لیے ایک اور مسئلہ ڈرون آپریشن سی آئی اے سے لے کر امریکی فوج کو منتقل کرنے کے صدر اوباما کی تجویز کی وجہ سے بھی پیدا ہو گیا ہے۔

پینٹاگن کی جوائنٹ سپیشل آپریشن کمانڈ یمن اور صومالیہ میں ڈرون حملے ایک قانونی چھتری کے تحت کرتی ہے۔ محاذ جنگ سے دور اس طرح کے حملے میزبان ملک کی درخواست پر ہی کیے جا سکتے ہیں۔ جبکہ پاکستان کا معاملہ مختلف ہے، جہاں سی آئی اے خفیہ آپریشن کے تحت کارروائی کرتی ہے۔

پاکستان نے ڈرون حملوں پر اپنی رضا مندی تو دے رکھی ہے لیکن اس کا اعتراف نہیں کرتی۔ اگر یہ آپریشن سی آئی اے سے فوج کو دیے گئے تو اس سے قانونی دشواریاں پیدا ہو جائیں گی۔

خفیہ اداروں کے حکام افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل جوڈنفورڈ کی اس تجویز کی حمایت کرتے ہیں کہ امریکی فوج کے انخلا کے بعد دس ہزار امریکی فوجی افغانستان میں موجود رہیں۔

صدر اوباما نے ابھی اس تجویز کی منظوری نہیں دی ہے جس کی ایک وجہ صدر کرزئی کی طرف سے اس کی مخالفت بھی ہے۔