ڈرون یا بغیر پائلٹ طیارہ؟

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, اوون بینیٹ جونز
- عہدہ, بی بی سی نیوز نائٹ
اب تک امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل مسلح ڈرون طیارے استعمال کر رہے ہیں مگر کئی دوسرے ممالک انھیں تیار کر رہے ہیں کیونکہ ان سے صلاحیتیں بڑھائی جا سکتی ہیں۔
مثال کے طور پر پاکستان کے گذشتہ دورے پر جو کہانی میں نے سنی کہ کیسے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ایک عرب جنگجو اپنی بیوی سے علیحدہ دوسرے کمرے میں سوتا تھا کہ ایک رات چار پنجابی جنگجو اس کے پاس پناہ کی غرض سے آئے۔
عرب نے انھیں ٹھہرانے کا فیصلہ کیا اور ان کے ساتھ انھی کے کمرے میں سونے کا فیصلہ کیا اور اسی رات ایک ڈرون نے ان کے گھر کو نشانہ بنایا جس میں تمام جنگجو ہلاک ہو گئے اور صرف ان کی بیوی اور بچے سلامت رہے۔
کیا امریکی بتا سکتے ہیں کہ کون کس کمرے میں سو رہا ہے اور گھر کے مکینوں کے علاوہ کون ہے؟ وہ کیسے ایک کمرے کو نشانہ بناتے ہیں کہ دوسرا کمرہ محفوظ رہے؟
پشاور میں مقیم کئی صحافیوں اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ ممکن ہے۔
مگر ایک قبائلی رہنما نے مجھے ایک اور کہانی سنائی۔ کچھ طالب ایک گھر کے صحن میں اس کمرے کے ساتھ تھے جس میں انھوں نے 18 افراد کو یرغمال بنایا ہوا تھا کیونکہ اغوا برائے تاوان طالبان کی آمدن کا بڑا حصہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہAmazon
ڈرون نے اس گھر کو نشانہ بنایا جس میں تمام جنگجو ہلاک ہو گئے اور اس نے اس کمرے کی دیوار کو بس اتنا نقصان پہنچایا کہ اس میں قید افراد باآسانی بغیر کسی نقصان کے فرار ہو سکیں۔
اس حملے کے نتائج کو مقامی افراد نے ’خدا کی عظمت‘ کا ثبوت قرار دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یقیناً ڈرون عام شہریوں کو بھی ہلاک کرتا ہے مگر یہ ممکن ہے کہ نشانہ باز کی غلطی ہو نہ کہ تکنیکی خرابی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ڈرون کہیں نہیں جا رہے اور عالمی سطح پر غلبے کا عزم رکھنے والے ممالک جیسا کہ فرانس اور برطانیہ اپنی ڈرون ٹیکنالوجی بنانا چاہتے ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ وہ ان نئی مشینوں کو کس نام سے پکاریں گے کیونکہ اگر آپ نام صحیح رکھ لیں تو آپ آدھے مسئلے کا حل نکال لیتے ہیں۔
ہم صحافیوں کو اسی مسئلے کا سامنا اکثر رہتا ہے جو زبان سے منسلک ہے۔ جیسا کہ اسرائیل اور مغربی کنارے کے درمیان تعمیر کو ’دیوار‘ کہا جائے یا ’سکیورٹی باڑھ‘؟ کیا عراق پر ’قبضہ‘ ہوا تھا یا جیسا کہ امریکی حکام نے پہلے کہا تھا اسے ’آزادی‘ دلوائی تھی؟ کیا ’فوجی اخراجات‘ ہیں یا ’دفاعی اخراجات‘ اور یقیناً بندوق بردار شخص کیا ’دہشت گرد‘ ہے یا ’علیحدگی پسند؟‘
ڈرون کے کئی متبادل الفاظ ہیں مگر پہلے یہ کہ یہ لفظ ہے کیا؟
ڈرون لفظ کا استعمال 75 سال پہلے کیا گیا تھا جب ایک طیارہ بنایا گیا جسے ’کوئن بی‘ یا ملکہ مکھی کہا گیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
برطانوی حکومت کو ایک سستا، ریڈیو سے چلنے والا طیارہ چاہیے تھا جو اینٹی ایئر کرافٹ توپوں کے سامنے اڑے تاکہ وہ نشانہ بازی کی تربیت کر سکیں۔
یہ طیارہ اڑا اور اس کے انجن سے نکلنے والی مستقل آواز کی وجہ سے بالآخر اس کا نام ڈرون پڑ گیا۔
اس لفظ کا تعلق نر مکھیوں کے ساتھ بھی ہے جنھیں بغیر دماغ کے مخلوق کہا جاتا ہے جس سے مراد لی جا سکتی ہے ہتھیاروں کا نظام بغیر دماغ کے ہوتا ہے بلکہ صرف بغیر دماغ کے نہیں بغیر دماغ کے مارنے والا۔
اس کے متبادل کیا ہو سکتے ہیں؟ ایک تو ہے بغیر پائلٹ کے اڑنے والا طیارہ یا ’یو اے وی‘ جس پر بعض فوجی اہل کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اس کی پوری تکنیکی صلاحیتوں کا احاطہ نہیں کر سکتا۔
اسی وجہ سے اس کا نام بدل دیا گیا اور اسے حالیہ دنوں میں پسندیدہ ’ریمورٹلی پائلٹڈ ایئر کرافٹ‘ یا ریموٹ کنٹرول کے ذریعے اڑائے جانا والا طیارہ کہا گیا۔
ڈرون طیارہ سازوں، صارفین اور ہم خیال لوگ لفظ ڈرون استعمال نہیں کرنا چاہتے ہیں مگر انھیں اسی ہفتے ایک دھچکہ لگا جب صدر اوباما نے اپنے سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں اعلان کیا کہ وہ ڈرون کے استعمال کو محدود کرنے کے خواہاں ہیں۔
اب اگر افواج کے سربراہ انھیں ڈرون کہتے ہیں تو ان کے ماتحت اہل کاروں اور سپلائر کیسے کہہ سکتے ہیں کہ وہ غلط ہیں۔







