اب ڈرون طیارے کمرشل پروازوں کے لیے

ڈرون کے کمرشل استعمال میں سب سے زیادہ متوقع استعمال زراعت اور سکیورٹی ایجنسیوں میں ہو گا
،تصویر کا کیپشنڈرون کے کمرشل استعمال میں سب سے زیادہ متوقع استعمال زراعت اور سکیورٹی ایجنسیوں میں ہو گا

امریکہ میں ہوابازی کے نگران ادارے نے چھ ریاستوں کے ناموں کا اعلان کیا ہے جہاں ڈرون طیاروں کے کمرشل استعمال کے لیے تجربات کیے جا سکیں گے۔

فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن یعنی ایف اے اے نے الاسکا، نویڈا، نیویارک، شمالی ڈکوٹا، ٹیکسس اور ورجینیا کا انتخاب کیا ہے جہاں بغیر پائلٹ کے طیاروں کے کمرشل استعمال کے تجربات کیے جا سکیں گے۔

یہ جگہیں اس پروگرام کا حصہ ہیں جس کے نتیجے میں 2015 کے آخر تک ڈرون کے لیے قواعد و ضوابط بنائے جا سکیں گے۔

آج کل ڈرون طیارے صرف فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہوتے ہیں لیکن اسٹیٹ ایجنٹوں سے لے کر کسان اور ڈاک پہنچانے والے سبھی ان میں دلچسپی لے رہے ہیں۔

ایف اے اے کے سربراہ مائیکل ہوئرٹا نے کہا کہ جب وہ ان طیاروں کی امریکی فضاؤں میں کمرشل پرواز کی اجازت دینے پر غور کر رہے ہوں گے تو تحفظ اس معاملے میں اولین ترجیح ہو گی۔

ایف اے اے نے ایک بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ دس مہینے کے غور کے بعد کیا گیا جس میں 24 ریاستوں کی جانب سے تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔

ایجنسی کا کہنا تھا کہ اس نے اس معاملے میں جغرافیے، ماحول، زمینی بنیادی ڈھانچے، تحقیقاتی ضروریات، فضائی استعمال، ہوابازی میں مہارت اور خطرات کو ملحوظِ خاطر رکھا۔

حال ہی میں انٹرنیٹ ویب سائٹ ایمزون نے ڈرون کو ڈلیوری کے لیے استعمال کرنے کا عندیہ دیا تھا
،تصویر کا کیپشنحال ہی میں انٹرنیٹ ویب سائٹ ایمزون نے ڈرون کو ڈلیوری کے لیے استعمال کرنے کا عندیہ دیا تھا

ڈرون کے کمرشل استعمال میں سب سے زیادہ متوقع استعمال زراعت اور سکیورٹی ایجنسیوں کے لیے ہے۔

پولیس اور دوسری ایجنسیاں انھیں ہجوم پر کنٹرول کرنے، جرم کی جائے وقوع کی تصاویر اور تلاش اور بچاؤ کے مشن کے لیے استعمال کر سکتی ہیں۔

پولیس کے محکمے کو ہیلی کاپٹر اڑانے کے لیے سینکڑوں ڈالر چاہیے ہوتے ہیں جب کہ بغیر پائلٹ کے طیارہ 25 ڈالر میں اڑایا جا سکتا ہے۔

کسان اسے فصلوں پر سپرے کرنے اور اپنے جانوروں کی نگرانی کرنے کے لیے استعمال کر سکیں گے۔

ایف اے اے کا اندازہ ہے کہ ڈرون کے کمرشل استعمال کی قانونی اجازت کے بعد پانچ سالوں کے اندر اندر 7500 طیارے استعمال میں آجائیں گے۔

تاہم ان ڈرون کے کمرشل استعمال پر قدامت پسندوں اور لبرلز دونوں نے تنقید کی ہے۔

گذشتہ دسمبر میں امریکی سول لبرٹیز یونین نے کہا تھا کہ ’ڈرون کو امریکی فضاؤں میں پرواز کی اجازت دینے کا مطلب یہی ہو گا کہ ہماری ہر حرکت کی نگرانی ہو گی اور اس پر نظر رکھی جائے گی، ہمارا پیچھا کیا جائے گا، اور حکام ہماری تفتیش کریں گے۔‘

ڈرون کی صنعت کے بارے میں اندازہ ہے کہ اس سے ملازمتوں کے 70 ہزار نئے مواقع وجود میں آئیں گی، جن میں ڈرون آپریٹر کی ملازمتیں شامل ہیں۔

ٹیل گروپ کی جانب سے کی گئی تحقیق کے نتیجے میں پتہ چلا کہ عالمی طور پر اگلی ایک دہائی میں ڈرون کے کمرشل استعمال کی صنعت کی کل مالیت 89 ارب ڈالر ہو گی۔