خیبرایجنسی:گن شپ ہیلی کاپٹروں کی شیلنگ، ’پانچ شدت پسند ہلاک‘

مقامی لوگوں کے مطابق بمباری کا یہ سلسلہ چالیس منٹ تک جاری رہا

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنمقامی لوگوں کے مطابق بمباری کا یہ سلسلہ چالیس منٹ تک جاری رہا
    • مصنف, عزیزاللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں سرکاری ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز کے گن شپ ہیلی کاپٹروں نے شدت پسندوں کے مختلف ٹھکانوں پر بمباری کی ہے جس میں پانچ شدت پسندوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ اتوار کو تحصیل باڑہ کے علاقے اکا خیل میں سپاہ منڈے کس اور یوسف تالاب کے مقامات پر شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ کارروائی صبح سات بچے شروع کی گئی اور اس میں تین گن شپ ہیلی کاپٹروں نے حصہ لیا۔

خیال رہے کہ یہ کارروائی کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کی طرف سے ایک ماہ کے لیے جنگ بندی کے اعلان کے ایک دن بعد کی گئی ہے۔

<link type="page"><caption> طالبان کا ایک ماہ کی جنگ بندی کا اعلان</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/03/140301_ttp_announced_cease_fire_tk.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> پولیو ٹیم پر حملہ، سکیورٹی پر مامور 13 اہلکار ہلاک</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/03/140301_khyber_attack_on_polio_team_rk.shtml" platform="highweb"/></link>

مقامی لوگوں کے مطابق بمباری کا یہ سلسلہ چالیس منٹ تک جاری رہا۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ اس کارروائی میں شدت پسندوں کے ایک کمانڈر ملا طمانچی کے مرکز پر بھی بمباری کی گئی ہے۔

سرکاری اہلکاروں نے بتایا کہ یہ بمباری گذشتہ روز جمرود میں انسدادِ پولیو مہم میں حصہ لینے والے خاصہ داروں پر حملے کے بعد جوابی کارروائی کے طور پر کی گئی ہے۔ گذشتہ روز جمرود میں دو بم دھماکوں میں انسداد پولیو مہم میں کام کرنے والے تیرہ اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ گذشتہ روز دھماکوں کے بعد شدید فائرنگ کی گئی تھی اور ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ اس کے بعد شدت پسند تنظیم اور امن لشکر کے رضا کاروں کے مابین جھڑپ بھی ہوئی تھی۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ آج یعنی اتوار کو شیلنگ بھی گذشتہ روز کے شدت پسندوں کے حملوں کے جواب میں کی گئی ہے اور اس میں شدت پسندوں کے اہم ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

خیبر ایجنسی میں مختلف شدت پسند تنظیمیں متحرک ہیں اور یہاں تشدد کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

چند ماہ پہلے باڑہ کے کچھ علاقوں کو شدت پسندوں سے صاف کرا دیا گیا تھا اور پشاور سے باڑہ جانے والی شاہراہ کو بھی عام ٹریفک کے لیے چار سال کی بندش کے بعد کھول دیا گیا تھا۔لیکن باڑہ بازار تاحال بند ہے۔

ادھر سنیچرکو کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے ایک مہینے کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا جسے حکومتی مذاکراتی ٹیم کے رکن عرفان صدیقی نے فائر بندی کے اعلان کو مثبت اور نتیجہ خیز قراردیا تھا۔

کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے ذرائع ابلاغ کو جاری کیے گئے بیان میں کہا تھا کہ طالبان نے نیک مقاصد اور سنجیدگی سے مذاکرات کا آغاز کیا ہے۔

اعلان میں مزید کہا گیا تھا کہ ’تحریک طالبان کی اعلیٰ قیادت کی طرف سے اپنے تمام حلقہ جات اور مجموعات کو ہدایت جاری کی جاتی ہے کہ تحریک طالبان کی طرف سے حکومت کے ساتھ جنگ بندی کے اعلامیے کا احترام کرتے ہوئے اس کی مکمل پاسداری کریں اور اس دوران ہر قسم کی جہادی کاروائیوں سے گریز کریں۔‘

کلعدم تحریکِ طالبان کی طرف سے جنگ بندی کا اعلان سنیچر کو خیبر ایجنسی میں پولیو ٹیم پر ہونے والے بم حملوں کے بعد کیا گیا تھا۔