پشاور: ’صحت کا انصاف‘ پرامن طور پر اختتام پذیر

،تصویر کا ذریعہAFP Getty
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں کمسن بچوں کو نو بیماریوں سے بچاؤ کی ویکسین اور ادویات پلانے کی مہم اختتام پذیر ہو گئی ہے۔
یہ مہم تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی طرف سے اعلان کردہ ’صحت کا انصاف‘ پروگرام کے پہلے مرحلے میں چلائی گئی۔
عمران خان نےٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’میں خیبرپختونخوا پولیس اور انصاف صحت رضاکاروں کا ملک کی تاریخ کی سب سے بڑی بیماریوں سے بچاؤ کی ویکسینشن کی مہم پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہو۔‘
عمران خان نے ٹویٹ میں دعویٰ کیا کہ ’پانچ لاکھ کے قریب بچوں کو ویکسین پلائی گئی۔‘
مہم کے موقع پر شہر میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے اور تقریباً چار ہزار پولیس اہلکار اس موقع پر تعینات کیے گئے تھے۔
بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق اگرچہ حکام کی جانب سے اتوار کو شہر میں موٹرسائیکل چلانے پر بھی پابندی عائد کی گئی لیکن اس پابندی پر مکمل طور پر عمل درآمد ہوتا دکھائی نہیں دیا۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
خیال رہے کہ سنیچر کی شام پشاور کی ضلعی انتظامیہ کی طرف سے جاری کیے گئے ایک مختصر اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ اتوار کی صبح آٹھ بجے سے لے کر شام پانچ بجے تک ضلع پشاور کے تمام علاقوں میں موٹر سائیکل چلانے پر پابندی ہوگی جبکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف دفعہ 188 کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
صوبائی وزیر صحت شوکت علی یوسف زئی نے جمعہ کو اس مہم کے بارے میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ پہلے مرحلے میں پشاور کی 50 یونین کونسلوں میں بچوں کو پولیو سمیت نو بیماریوں سے بچاؤ کی ویکسین اور ادویات دی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اس مہم کے دوران بچوں کو ڈینگی کے مرض سے بچاؤ اور ان کو آگاہی بھی فراہم کی جائے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صوبائی وزیر کے مطابق اس مہم میں 2420 موبائل ٹیمیں، 6000 رضاکار اور 2500 تبدیلی رضاکار حصہ لیں گے اور اس دوران پشاور کے تمام علاقے کور کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پشاور کے بعد اس مہم کا دائرہ صوبے کے دیگر اضلاع تک بھی پھیلایا جائے گا۔
نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق انہوں نے اعلان کیا کہ صوبے کے بارہ اضلاع میں بچوں کو امراض سے بچاؤ کا کورس مکمل کرنے والوں کو ایک ہزار روپے نقد دیے جائیں گے جبکہ بارہ اضلاع میں حاملہ خواتین کو دوران حمل دو مرتبہ زچگی کے بعد ایک مرتبہ چیک اپ کرانے کی صورت میں 2700 روپے دیے جائیں گے جو ایم این سی ایچ کے تحت ہوں گے۔
خیال رہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے چنددن پہلے پشاور میں ’صحت کا انصاف‘ پروگرام کا باقاعدہ افتتاح کیا تھا۔ تاہم بعض نامعلوم وجوہات کی بناء یہ مہم دوسرے ہی دن ملتوی کردی گئی تھی۔ اس سے پہلے پشاور میں پولیو مہم کو بھی موخر کیا گیا تھا۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں حالیہ چند مہنیوں کے دوران پولیو کارکنوں پر حملوں میں تیزی آئی ہے جس کی وجہ سے اب تک درجنوں رضاکار اور ان کی حفاظت پر مامور اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔
ان حملوں کی وجہ سے محکمہ صحت کے اہلکار، اساتذہ اور رضاکار انسداد پولیو مہم میں حصہ لینے سے بھی انکار کرتے رہے ہیں۔







