’این جی اوز کی خواتین جینز پہن کر پروگرامز کی فائلیں تیار کرتی ہیں‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستان کی مذہبی و سیاسی جماعت جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں مغربی تہذیب کے نمائندوں کی حکومت ہے، امریکی اور یہودی ایجنٹ ان کے خلاف نعرے لگا کر درپردہ ان ہی کے ایجنڈے کی تکمیل کررہے ہیں۔
انھوں نے یہ بات اتوار کو صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آج ایسے ایسے نعرے لائے جا رہے ہیں جن میں خوبصورتی تو ہے لیکن درحقیقت وہ ’گُڑ میں زہر‘ کی مانند ہے۔
جمیعت علمائے اسلام کے رہنما جو اپنے بیانات کی وجہ سے کافی شہرت رکھتے ہیں کہا کہ مغرب نے صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت کو اس صوبے پر مسلط کیا ہے تاکہ پشتون روایات اور تہذیب کو ختم کیا جائے۔
انھوں نے کہا کہ اس صوبے کی حکومت کبھی ڈرون حملوں کے خلاف نعرے لگاتی ہے اور کبھی نیٹو سپلائی روکتی ہے۔ ’ہم اس بات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ نعرے وہ لگاؤ جو عوام میں مقبول ہوں تاکہ پذیرائی ملے لیکن مغرب کا ایجنڈا عوام پر مسلط کرو۔‘
انھوں نے پاکستان تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ: ’صوبے میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے اور این جی اوز (غیر سرکاری تنظیمیں) حکومت کر رہی ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ اسلام آباد سے ’این جی اوز کی خواتین جینز پہن کر اس صوبے میں آتی ہیں اور آپ کے پروگرام کی فائلیں تیار کرتی ہیں۔‘
پاکستان کی مذہبی و سیاسی جماعت جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ حکومت کو طالبان کے ساتھ فوری جنگ بندی کا اعلان کرنا چاہیے تاکہ مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جاسکے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اُن کی جماعت ملک میں امن کے لیے کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔
انھوں نے کہا کہ قبائلی جرگے کو طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے کا موقع دینا چاہیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال سے ملک میں امن نہیں لایا جاسکتا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ پہلے کُل جماعتی کانفرنس میں کیے جانے والے فیصلوں پر عملدرآمد کرائے اور اگر کوئی امن کی کوششوں میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے تو سکیورٹی فورسز اس کے خلاف کارروائی کرے۔
مولانا فضل الرحمان نے یہ بات ایسے وقت کی ہے جب کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے مسلم لیگ کی حکومت پر مذاکرات کے نام پر سیاست کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ’اگر حکومت سنجیدہ ہے تو اپنی پوزیشن واضح کرے۔‘
طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے بیان میں مزید کہا ہے کہ طالبان کے پاس مولانا سمیع الحق کے قاصد سمیت جتنے بھی امن کے خواہاں وفود آئے، طالبان نے انھیں مثبت اور حوصلہ افزا جواب دیا، جبکہ حکومت کی طرف سے صرف میڈیا پر بیان بازی ہوتی رہی ہے، تاکہ عوام کو مغالطے میں ڈال کر حقیقت سے گمراہ کیا جاتا رہے۔
دوسری جانب وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے طالبان کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش پر کہا ہے کہ پارٹی کے اجلاس میں اس پیشکش کا جائزہ لیا جائے گا کہ آیا یہ سیاسی بیان ہے یا وہ ملک کے آئین کے مطابق زندگی گزارنے پر تیار ہو گئے ہیں۔







