خضدار سے دو لاشیں برآمد، ’مزید لاشیں بھی ہیں‘

اس سے قبل بھی پشین میں سے لاشیوں ملی تھیں جن کی شناخت اس لیے نہیں کی جاسکتی تھی کہ ان پر چونا پھینک دیا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناس سے قبل بھی پشین میں سے لاشیوں ملی تھیں جن کی شناخت اس لیے نہیں کی جاسکتی تھی کہ ان پر چونا پھینک دیا گیا تھا
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع خصدار میں حکام کا کہنا ہے کہ دو مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں جبکہ چھ سے سات مزید نامعلوم افراد کی لاشیں دفن ہیں۔

خضدار کے اعلیٰ حکام نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ضلع خضدار کے علاقے توتک سے دو لاشیں برآمد کی گئی ہیں۔

حکام کے مطابق جمعہ کو چرواہوں نے حکام کو اطلاع دی کہ ان کو لاشیں ملیں ہیں۔

حکام کے مطابق اہلکاروں نے ہفتے کے روز دو لاشیں اٹھائیں ہیں جو اس قابل تھیں کہ ان کو اٹھایا جا سکے۔

حکام نے خدشہ ظاہر کیا کہ اسی جگہ پر چھ سے سات مزید لاشیں ہیں جو بری طرح مسخ شدہ ہیں۔

حکام کے مطابق جو دو لاشیں اٹھائی گئی ہیں ان کو قتل کرنے کے بعد ان پر چونا ڈال دیا گیا تاکہ ان کی شناخت نہ ہو سکے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی پشین میں سے لاشیوں ملی تھیں جن کی شناخت اس لیے نہیں کی جاسکتی تھی کہ ان پر چونا پھینک دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ بلوچستان میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور سے حالات زیادہ خراب ہیں اور ان میں شدت اس وقت آئی جب ایک مبینہ فوجی آپریشن میں بلوچ قوم پرست رہنما نواب اکبر بگٹی مارے گئے تھے۔

اس واقعے کے بعد سے صوبے میں مزاحمتی تحریک جاری ہے اور پرتشدد واقعات معمول بن گئے ہیں جن میں لوگوں کا لاپتہ ہونا اور اس کے بعد ان کی لاشوں کے ملنے کے واقعات نمایاں ہیں۔