بلوچستان: گولیوں سے چھلنی مزید تین لاشیں برآمد

بلوچ عوام مسخ شدہ لاشییں پھینکنے اور جبری گم شدگیوں کے خلاف احتجاج کرتے رہے ہیں
،تصویر کا کیپشنبلوچ عوام مسخ شدہ لاشییں پھینکنے اور جبری گم شدگیوں کے خلاف احتجاج کرتے رہے ہیں

پاکستان کے صوبے بلوچستان کے دو مختلف علاقوں سے مزید تین افراد کی گولیوں سے چھلنی لاشیں بر آمد ہوئیں ہیں۔

یہ لاشیں اتوار کے روز تربت اور خضدار کے علاقوں سے بر آمد کی گئیں۔

تربت میں مقامی حکام کے مطابق یہ نعشیں اطلاع ملنے پر مرغاپ کے علاقے سے برآمد کی گئیں۔ دونوں افراد کو گولی مارکر ہلاک کیا گیا تھا۔

گولیوں سے چھلنی دونوں نعشیں قبضے میں لے کر ہسپتال پہنچادی گئیں جہاں ان کی شناخت شاہ زیب اور شاہ نور کے ناموں سے ہوئیں ۔ہلاک کیے گئے دونوں افراد کا تعلق پنجگور کے علاقے خدابادان سے تھا۔

بلوچ لبریشن سٹرگل نامی تنطیم کے ترجمان نے نامعلوم مقام سے فون کر کے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک کیے گئے دونوں افراد ان کی تنظیم کے کارکن تھے۔

ترجمان نے ان کے قتل کی ذمہ داری حکومتی اداروں پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پنجگور سے جبری طور پر غائب کیا گیا تھا۔

تیسری لاش خضدار سے بر آمد ہوئی۔مقامی پولیس کے مطابق ایک شخص کو نامعلوم افراد نے ہلاک کرکے اس کی لاش کو زندہ پیر کے علاقے میں پھینک دیا تھا۔ لاش کو شناخت کے لیے مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

بلوچ نیشنل موومنٹ کے ایک بیان کے مطابق خضدار سے برآمد ہونے والی لاش نصیر بلوچ کی تھی جو کہ بلوچ ریپبلیکن پارٹی کا رہنما تھا۔

بلوچستان میں گذشتہ کئی سالوں سے جبری گم شدگیوں اور مسخ شدہ لاشیں پھینکنے کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ جس کے خلاف بلوچ عوام احتجاج کرتے آئے ہیں۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنمان سردار اختر مینگل نے مارچ میں بلوچستان کی صورتِ حال میں بہتری لانے کے لیے حوالے سے بی بی سی کو ایک خصوصی انٹرویو میں کہا تھا کہ ’سب سے پہلے خفیہ اداروں کی مداخلت بند کی جائے۔ ڈیتھ سکواڈ کا خاتمہ کیاجائے۔ لاپتہ افراد کو بازیاب کرایا جائے، مسخ شدہ لاشیں پھنکنے کاسلسلہ بند کیا جائے۔اگر کوئی بدامنی کے واقعات میں ملوث ہیں توان کوعدالتوں کے سامنے پیش کیا جائے۔‘