راولپنڈی: جی ایچ کیو کے قریب دھماکہ، 13 افراد ہلاک

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستانی دارالحکومت سے ملحق شہر راولپنڈی کے آر اے بازار میں دھماکہ ہوا ہے جس میں خودکش حملہ آور سمیت 13 افراد ہلاک اور 28 افراد زخمی ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک مقامی سکول کے بچے بھی شامل ہیں۔
اس علاقے میں پاکستان کی چند حساس تنصیبات انتہائی قریب ہی واقع ہیں جن میں برّی فوج کا صدر دفتر جی ایچ کیو شامل ہے۔
راولپنڈی میں پوٹوہار ٹاؤن کے ایس پی ہارون جوئیہ کے مطابق اس واقعے میں بارہ افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے چھ حاضر سروس فوجی اور چھ عام شہری تھے۔
مقامی پولیس کے مطابق مبینہ خودکش حملہ آور کا سر اور اس کے جسم کے دیگر اعضا کو اکھٹا کر کے ملٹری ہسپتال بھجوا دیا گیا ہے جہاں شناخت کے لیے ان کے چہرے کی سرجری کا عمل شروع کیا جائے گا۔
راولپنڈی پولیس کے بم ڈسپوزل سکواڈ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ابتدائئ تفتیش کے مطابق حملہ آور نے 8-10 کلوگرام دھماکہ خیز مواد اپنے جسم کے ساتھ باندھا ہوا تھا۔
اس سے پہلے پولیس کے ایس ایس پی آپریشن میاں محمد مقبول نے متاثرہ افراد کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ زخمیوں میں سے نو افراد کی حالت تشویش ناک ہے۔
ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور میڈیا کے اراکین کو جائے وقوع پر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ دھماکے کے فوراً بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو خالی کروا لیا تھا کیونکہ خفیہ ایجنسیوں کی اطلاعات کے مطابق یہ شک تھا کہ علاقے میں ایک اور خودکش حملہ آور ہونے کا امکان ہے۔
تھانہ آر اے بازار میں پولیس کے ہیڈ کانسٹیبل توقیر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ فوج نے علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور آرمی ایمبیولنس اور ضلعی ریسکیو سروسز کی امدادی ٹیمیں علاقے میں پہنچ گئی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ زخمیوں کو سی ایم ایچ لے جایا جا رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہیڈ کانسٹیبل توقیر نے بتایا کہ یہ دھماکہ آر اے بازار کے مرکزی چوک اور 22 نمبر چونگی کے درمیان سڑک پر ہوا ہے۔
اس مقام پر سنہ 2008 اور 2009 میں بھی حملے ہو چکے ہیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ اس ماہ کی 16 تاریخ کو خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹوں کی روشنی میں وزارتِ داخلہ نے چاروں صوبائی حکومتوں کو خطوط لکھے تھے جن میں کہا گیا تھا کہ آئندہ چند روز میں ملک بھر میں اور بالخصوص اسلام آباد اور راولپنڈی کے شہروں میں سکیورٹی اداروں کی تنصیبات اور اہلکاروں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ وزارتِ داخلہ کی اطلاعات کے مطابق اس مقصد کے لیے کالعدم تنظیموں کی جانب سے چند خودکش حملہ آور روانہ کیے گئے تھے۔
یاد رہے کہ ایک روز قبل ہی صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں فوج کی چھاؤنی کے علاقے میں سکیورٹی فورسز کے ایک قافلے کے قریب دھماکہ ہوا جس میں 20 اہل کار ہلاک اور 20 سے زیادہ زخمی ہوئے۔
تحریکِ طالبان پاکستان نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی اور ترجمان شاہد اللہ شاہد نے بتایا کہ یہ کارروائی مولانا ولی الرحمان کی ہلاکت کا انتقام لینے کے لیے کی گئی۔
دریں اثنا حکومتِ پاکستان نے آج کابینہ کے اجلاس میں قومی انسدادِ دہشتگردی کی پالیسی پیش کرنی ہے۔ واضح رہے کہ ملک میں شدت پسندی کے بڑھتے ہوئے رجحان پر قابو پانے کے لیے میاں نواز شریف کی حکومت نے برسرِاقتدار آتے ہی شدت پسند عناصر سے مذاکرات کی بات کی تھی تاہم حکومتی اس سطح پر اس سلسلے میں کسی پیش رفت کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔







