بنوں حملے میں 20 ہلاک، حملہ ہم نے کیا، مذاکرات کے لیے تیار ہیں: طالبان

سکیورٹی اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنسکیورٹی اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں فوج کی چھاؤنی کے علاقے میں سکیورٹی فورسز کے ایک قافلے کے قریب دھماکہ ہوا ہے جس میں 20 اہل کار ہلاک اور 20 سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔

عسکری ذرائع کے مطابق زخمی ہونے والوں میں سے 15 کی حالت تشویش ناک ہے جن کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے پشاور کے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

یہ دھماکہ چھاؤنی کے علاقے میں آمندی چوک پر رزمک گیٹ کے قریب ہوا ہے۔

دوسری جانب سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے بنوں دھماکے ملک میں دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی حالیہ وارداتوں کی وجہ سے اپنا دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ کر دیا ہے۔

وزیراعظم کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ’ہماری قوم انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف متحد ہے اور شہریوں اور قانونی نافذ کرنے والے اہل کاروں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔‘

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکہ قافلے میں شامل ایک گاڑی میں ہوا ہے۔

ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز کی نقل و حرکت کے لیے ضرورت پڑنے پر نجی گاڑیاں بھی کرائے پر حاصل کی جاتی ہیں۔

ذرائع کے مطابق دھماکہ خیز مواد انھی گاڑیوں میں سے ایک میں رکھا گیا تھا اور جس وقت اہل کار گاڑیوں میں سوار ہو رہے تھے اسی وقت دھماکہ ہوا۔

تحریکِ طالبان پاکستان نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ میڈیا کو بھیجے گئے ایک بیان میں ترجمان شاہد اللہ شاہد نے بتایا کہ یہ کارروائی مولانا ولی الرحمان کی ہلاکت کا انتقام لینے کے لیے کی گئی ہے۔

عسکری ذرائع کے مطابق اس حملے میں ہلاک ہونے والوں میں سے چھ کی لاشیں ناقابل شناخت ہیں۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق ان کی شناخت کے لیے ان کا ڈی این اے ٹیسٹ کیا جائے گا۔

عسکری ذرائع کے مطابق زخمی ہونے والوں میں سے 15 کی حالت تشویشناک ہے جن کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے پشاور کے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

سرکاری خبر رساں اداروں کے مطابق وزیرِ داخلہ نے اس دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے آئی جی ایف سی سے رپورٹ طلب کی ہے کہ نجی گاڑیاں کرائے پر لیتے وقت احتیاط کیوں نہیں کی گئی۔

آمندی چوک پر ایک میدان ہے جہاں سے یہ قافلہ میرانشاہ کے لیے روانہ ہوتا ہے ۔

سکیورٹی ذرائع نے مقامی نمائندوں کو بتایا ہے کہ اس قافلے میں فرنٹیئر کور کے اہلکار سوار ہو رہے تھے جنھوں نے شمالی وزیرستان کی جانب جانا تھا اور اس کے لیے پرائیویٹ گاڑیاں کرائے پر حاصل کی گئی تھیں۔

بنوں پولیس کے اہلکاروں کا کہنا تھا کہ انھیں چھاؤنی میں داخل ہونے کی اجازت ہی نہیں ہے کہ معلومات حاصل کر سکیں۔

سکیورٹی اہلکاروں نے خود ہی علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بھی موقع پر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی اسی لیے بیشتر اطلاعات سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے دی جا رہی ہیں۔

بنوں چھاؤنی سے ہفتے اور اتوار کے روز سکیورٹی اہلکاروں کا قافلہ شمالی وزیرستان کے ہیڈکوارٹر میرانشاہ کی جانب سامان لے کر جاتا ہے جبکہ انھی دنوں میں دونوں جانب سے اہلکاروں کی نقل حرکت بھی جاری رہتی ہے۔

اس سے پہلے ان دنوں میں سکیورٹی اہلکاروں کے قافلوں پر حملے ہوتے رہے ہیں لیکن وہ حملے راستوں پر دیسی ساختہ بم نصب کر کے کیے جاتے تھے۔

یاد رہے کہ ملک میں شدت پسندی کے بڑھتے ہوئے رجحان پر قابو پانے کے لیے میاں نواز شریف کی حکومت نے برسرِاقتدار آتے ہی شدت پسند عناصر سے مذاکرات کی بات کی تھی تاہم حکومتی اس سطح پر اس سلسلے میں کسی پیش رفت کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔