’دہشت گردوں کے حملوں کا منہ توڑ جواب دیں گے‘

جنرل راحیل شریف پشاور میں کور ہیڈکوارٹر کا دورہ کر رہے تھے
،تصویر کا کیپشنجنرل راحیل شریف پشاور میں کور ہیڈکوارٹر کا دورہ کر رہے تھے

پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا کہ دہشت گردوں کے حملے ہرگز برداشت نہیں کیے جائیں گے اور ان کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

پاکستانی افواج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائی کی جائے گی۔

تاہم جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ فوج امن کے لیے مذاکرات کے عمل میں حکومت کی مکمل حمایت کرے گی۔

<link type="page"><caption> مذاکرات بےمعنی ہیں، کارروائیاں جاری رکھیں گے: طالبان</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/12/131217_security_policy_approval_expected_sa.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> خلوصِ نیت سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں: نواز شریف</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/10/131010_nawaz_reaction_hakimullah_talks_drone_zs.shtml" platform="highweb"/></link>

پریس ریلیز کے مطابق جنرل راحیل شریف نے پشاور میں کور ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا جہاں انہوں نے شہدا کی یادگار پر پھول بھی چڑھائے۔

انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کے عزم و حوصلے کو سراہا اور کہا کہ دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں استحکام لانے میں فوج نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے کالعدم تحریکِ طالبان سے بات چیت کو پہلی ترجیح اور فوجی قوت کے استعمال کو آخری حل کے طور پر رکھا ہے۔

طالبان نے ماضی میں حکومت کی جانب سے قوت کے استعمال پر کہا تھا کہ ’حکومت خوشی سے فوجی کارروائی کرے، ہم نے ماضی میں بھی فوجی آپریشنوں کا مقابلہ کیا ہے اب بھی ان کا انتظار کر رہے ہیں۔‘
،تصویر کا کیپشنطالبان نے ماضی میں حکومت کی جانب سے قوت کے استعمال پر کہا تھا کہ ’حکومت خوشی سے فوجی کارروائی کرے، ہم نے ماضی میں بھی فوجی آپریشنوں کا مقابلہ کیا ہے اب بھی ان کا انتظار کر رہے ہیں۔‘

جمعرات دس اکتوبر کو وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا تھا کہ حکومت طالبان کے ساتھ بات چیت کے فیصلے پر خلوصِ نیت سے آگے بڑھنا چاہتی ہے۔

اس ہفتے کے آغاز میں میاں نواز شریف نے کہا کہ ’قوت کا استعمال آخری حل کے طور پر کیا جائے گا۔‘

یاد رہے کہ پاکستان میں حکومت کی طرف سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے راستے کو ترجیح دینے کے اعلان کے چند ہی گھنٹے بعد طالبان نے حکومت کی طرف سے مذاکرات کے ’آپشن‘ کو ایک بار پھر مسترد کر دیا تھا۔

کالعدم تنظیم پاکستان طالبان کے نئے سخت گیر رہنما ملا فضل اللہ نے کہا تھا کہ حکومت سے امن مذاکرات بے معنی ہیں۔

انھوں نے ایک بار پھر دھمکی دی کہ وہ پاکستان کی حکومت کو ہٹانے اور ملک میں شرعی نظام نافذ کرنے کے لیے جدوجہد کے سلسلے میں اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ جب تک ڈرون حملے نہیں روکیں گے اُس وقت تک طالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل آگے نہیں بڑھےگا اور ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ڈرون حملوں میں نہ تو پاکستان کی افواج اور نہ ہی پاکستانی حکومت کا کوئی ہاتھ ہے۔