ڈیرہ اسماعیل خان میں دھماکہ، نوشہرہ سے چار لاشیں برآمد

عید میلاد النبی کے موقع پر ملک بھر میں سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنعید میلاد النبی کے موقع پر ملک بھر میں سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس کی گاڑی کے قریب دھماکے میں ایک انسپیکٹر سمیت چھ اہل کار زخمی ہو گئے ہیں۔

ادھر نوشہرہ کے قریب دریا کے کنارے سے چار افراد کی لاشیں ملی ہیں۔

ڈیرہ اسماعیل خان پولیس کے مطابق بم حملے کا واقعہ تحصیل کلاچی میں روہڑی روڈ پر گرہ گل داد کے قریب پیش آیا ہے۔

<link type="page"><caption> پشاور میں دفعہ 144 نافذ، ڈبل سواری پر پابندی</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/01/140113_peshawer_security_144_kp_tk.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ’امن سے پہلے تبدیلی کی توقع نہ رکھی جائے‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/01/140113_asad_umar_kpk_pti_peace_tk.shtml" platform="highweb"/></link>

پولیس اہل کاروں نے بتایا کہ پولیس کی موبائل گاڑی جب ایک موڑ کے پاس پہنچی تو اسی وقت دھماکہ ہو گیا۔ ایک اہل کار نے کہا کہ یہ دھماکہ دیسی ساختہ بم سے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے کیا گیا ہے۔

اس موبائل گاڑی میں ایس ایچ او محمد عمران اور اے ایس آئی اللہ بخش سمیت چھ اہل کار سوار تھے۔ یہ تمام اہل کار عید میلاد النبی کے جلوس کے بعد جار رہے تھے کہ دھماکے کی زد میں آ گئے۔

پولیس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے تاہم تاحال یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ دھماکہ کس گروپ نے کیا ہے۔ اس علاقے میں پہلے بھی تشدد کے واقعات پیش آ چکے ہیں جبکہ گرہ گل داد میں پولیس نے اس سے پہلے جرائم پیشہ افراد کے خلاف بھی کارروائیاں کی ہیں۔

واضح رہے کہ عید میلاد النبی کے موقعے پر ملک بھی میں سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ پشاور سمیت خیبر پختونخوا میں اور دیگر صوبوں کے متعدد شہروں میں ڈبل سواری پر پابندی ہے۔ اس کے علاوہ میلاد کے جلوسوں کے راستوں پر موبائل سروس بھی معطل ہے۔

نوشہرہ کے قریب دریا کے کنارے سے چار افراد کی لاشیں ملی ہیں جن کی شناخت نہیں ہو سکی

،تصویر کا ذریعہAFP Getty

،تصویر کا کیپشننوشہرہ کے قریب دریا کے کنارے سے چار افراد کی لاشیں ملی ہیں جن کی شناخت نہیں ہو سکی

کلاچی میں گذشتہ سال اکتوبر میں خود کش حملہ آور نے عید کے روز سابق وزیر قانون سردار اسرار گنڈہ پور کو ہلاک کر دیا تھا جب کہ جون 2011 میں خود کش حملہ آوروں نے کلاچی تھانے پر بھاری اسلحے سے حملہ کیا تھا جس میں دس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ان خود کش حملہ آوروں میں ایک خاتون بھی شامل تھی۔

ادھر ایک دوسرے واقعے میں نوشہرہ کے قریب دریا کے کنارے سے چار افراد کی لاشیں ملی ہیں۔ پولیس کے مطابق چاروں افراد کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا ہے۔ اب تک ان لاشوں کی شناخت نہیں ہو سکی۔ پولیس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

پشاور اور نوشہرہ سمیت صوبے کے دیگر علاقوں سے بھی اس طرح لاشوں کا ملنا معمول ہو گیا ہے۔ گذشتہ سال پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ان واقعات میں اضافے پر از خود نوٹس لیا تھا لیکن اس کے باوجود یہ واقعات جاری ہیں۔