کوئٹہ پھر سوگوار، نمازیوں پر فائرنگ سے نو ہلاک

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں مسلح افراد نے فائرنگ کر کے نو افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔ جبکہ دارالکومت اسلام آباد کے نواح میں ایک خود کش حملہ ناکام بنا دیا گیا ہے۔
کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق مسلح افراد نے مشرقی بائی پاس کے علاقے کی مسجد فاروقیہ پر اُس وقت فائرنگ شروع کر دی جب لوگ عید کی نماز پڑھ کر باہر نکل رہے تھے۔
فائرنگ سے پندرہ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں امدادی طبی امداد کے لیے سول ہسپتال اور سی ایم ایچ لے جایا گیا ہے۔
مسجد میں پیپلز پارٹی کے سابق صوبائی وزیر علی مدد جتک بھی موجود تھے لیکن وہ اس واقعے میں محفوظ رہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش شروع کر دی ہے۔
ایف سی نے کارروائی کر کے علاقے سے چار افراد کو گرفتار کیا ہے۔
مقامی پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ فائرنگ کا واقعہ دو گروہوں کے مابین دشمنی کا نتیجہ ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز کوئٹہ شہر میں پولیس لائنز میں نمازِ جنازہ کے دوران ہوئے خودکش دھماکے میں پولیس کے اعلیٰ اہلکار ڈی آئی جی آپریشن فیاض احمد سنبل، ایس پی انور خلجی اور ڈی ایس پی شمس سمیت تیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے حملے کے ذمہ داری قبول کر لی تھی۔
اسلام آباد، خود کش حملہ ناکام
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے نواحی علاقے بارہ کہو میں ایک خودکش حملہ آور کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق خود کش حملہ آور نے جمعہ کی نماز کے دوران ایک مسجد میں داخل ہونے کی کوشش کی۔
اسلام آباد پولیس کے مطابق خود کش حملہ آور نے مسجد میں داخل ہونے سے پہلے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہو گئے۔
مسجد کے پہرہ داروں کی جوابی فائرنگ سے خود کش حملہ آور ہلاک ہو گیا۔ پولیس کے مطابق خود کش حملہ آور کی جیکٹ پھٹنے میں ناکام رہی۔
بلوچستان میں تشدد
اسی ماہ میں بلوچستان کے شہر مستونگ میں خواتین کے ایک شاپنگ سینٹر میں دھماکے سے ایک بچی ہلاک اور آٹھ سے زائد خواتین زخمی ہو گئیں تھیں اور چھ اگست کو بلوچستان کے علاقے بولان میں کوئٹہ سے پنجاب جانے والے 13 مسافروں کو اغوا کے بعد قتل کر دیا گیا۔
صوبہ بلوچستان میں گزشتہ کئی سالوں سے امن و امان کی صورتحال خراب ہے اور شہر میں شدت پسندی کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں جن میں سکیورٹی فورسز، عام شہریوں اور طالب علموں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
یاد رہے کہ شہر میں ہزارہ برادری کے افراد کو بھی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ اس سال کے آغاز میں ایک سنوکر کلب کے اندر پہلے خودکش حملہ اور اس کے بعد باہر کھڑی گاڑی میں دھماکے کے نتیجے میں چوراسی افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ حملوں کے بعد ہزارہ برادری نے بڑے پیمانے پر احتجاج کیا اور ہلاک ہونے والوں کی تدفین کئی روز تک نہیں کی گئی۔
وزیراعظم میاں نواز شریف نے عہدہ سنبھالنے کےبعد کوئٹہ کے اپنے پہلے دور کے موقع پر کہا تھا کہ ملک کی خفیہ ایجنسیاں آئی بی اور آئی ایس آئی بلوچستان سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے لیے صوبے کے وزیراعلیٰ اور گورنر کی مدد کریں اور مجرموں کو پکڑیں۔







