پشاور سمیت تین اضلاع میں پولیو مہم موخر

،تصویر کا ذریعہAP

پاکستان بھر میں پیر سے شروع ہونے والی تین روزہ پولیو مہم سے پشاور سمیت صوبہ خیبر پختون خوا کے تین اضلاع کو پولیو مہم سے نکال دیا گیا ہے جبکہ ملک کے دیگر شہروں میں پولیو کی بیماری سے بچاؤ کے قطرے پلائے جا رہے ہیں۔

دوسری طرف قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں نئے سال کے پہلے دو ہفتوں میں چار بچیوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

پشاور میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی مانیٹرنگ سیل کے انچارج ڈاکٹر امتیاز علی شاہ نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج سے ملک کے تمام شہروں اور اضلاع میں انسداد پولیو مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے جو تین روز تک جاری رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ صوبے کے تین اضلاع پشاور، چترال اور ہری پورمیں پولیو مہم تیاریاں مکمل نہ ہونے اور بعض دیگر وجوہات کی بناء موخر کردی گئی ہے تاہم ان علاقوں میں بعد میں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے ویکسئین کے قطرے پلائے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے عالمی ادارہ صحت کی جانب سے پشاور کو دنیا بھر میں پولیو وائرس کا گڑھ قرار دینے کا سختی سے نوٹس لیا ہے اور پشاور کےلیے خصوصی پلان اور تیاریاں شروع کردی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ انسداد پولیو کے حوالے سے جامع منصوبہ بندی پر کام کیا جائے تاکہ اس حوالے سے حائل تمام روکاوٹوں کو دور کیا جاسکے۔

ادھر دوسری طرف قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں چار بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جو اس سال پہلے کیسسز بتائے جا رہے ہیں۔

محکمہ صحت کے حکام کے مطابق پولیو کا تازہ شکار ہونے والے تمام بچیاں ہیں جن میں تین کا تعلق میر علی اور ایک کا میرانشاہ سے بتایا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty

یاد رہے کہ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں پچھلے ڈیڑھ سال سے شدت پسند تنظیموں کی جانب سے پولیو مہم پر پابندی ہے جس کی وجہ سے ان علاقوں میں کوئی مہم نہیں چلائی گئی ہے۔ اس پابندی کے باعث ان مقامات سے پولیو کے سب سے زیادہ کیسز سامنے آ رہے ہیں۔

گزشتہ سال پاکستان بھر میں مجموعی طور پر91 پولیوکا شکار ہوئے جن میں سے 70 کا تعلق فاٹا اور خیبر پختونخوا سے تھا جبکہ ان میں 31 اکتیس کیسسز صرف شمالی وزیرستان سے سامنے آئے تھے۔

خیال رہے کہ چند دن پہلے عالمی ادارۂ صحت نے کہا تھا کہ خیبر پختونخوا کا دارالحکومت پشاور دنیا بھر میں پولیو وائرس کا سب سے بڑا گڑھ ہے اور پاکستان میں 90 فیصد پولیو وائرس جنیاتی طور پر پشاور میں موجود وائرس سے جڑا ہوا ہے۔

عالمی اداراۂ صحت کے پاکستان میں سربراہ ڈاکٹر الائس ڈرے نے بی بی سی کو بتایا تھا: ’ہمیں شمالی و جنوبی وزیرستان میں پابندی کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے تاہم پشاور پولیو وائرس کا ذخیرہ ہے جس کی وجہ سے اس کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوتا ہے۔‘