کوئٹہ: پولیو ٹیم پر دستی بم سے حملہ، بچی زخمی

ایک پانچ سالہ بچی شدید زخمی ہوئی ہے جس کے رشتے داروں کے مطابق وہ قاعدہ پڑھنے کے لیے مسجد جا رہی تھی
،تصویر کا کیپشنایک پانچ سالہ بچی شدید زخمی ہوئی ہے جس کے رشتے داروں کے مطابق وہ قاعدہ پڑھنے کے لیے مسجد جا رہی تھی
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں حکام کا کہنا ہے کہ پولیوکے قطرے پلانے والی ٹیم پر دستی بم سے حملہ ہوا ہے جس میں پولیو رضاکار تو محفوظ رہے تاہم ایک راہ چلتی بچی اس دھماکے کے نتیجے میں زخمی ہوگئی ہے۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ پشتون آباد کے علاقے میں عثمان چوک پر ہوا۔

حکام کے مطابق اس علاقے میں پولیو ٹیم کے رضاکار قطرے پلا کر سوزوکی پک اپ میں واپس جا رہے تھے جب یہ حملہ کیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے سوزوکی پک اپ پر دستی بم پھینکا۔ پولیس کے بقول اس حملے میں پولیو ٹیم کے رضا کار محفوظ رہے۔

تاہم وہاں سے گزرنے والی ایک پانچ سالہ بچی شدید زخمی ہوئی ہے۔ اس بچی کے رشتے داروں کے مطابق وہ قاعدہ پڑھنے کے لیے مسجد جا رہی تھی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی بلوچستان میں پولیو ٹیموں پر حملے ہو چکے ہیں۔

یاد رہے کہ عالمی ادارہ برائے صحت ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال کی نسبت رواں سال پاکستان میں پولیو کے کیسز کی تعداد میں 24 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

2012 میں یہ تعداد 58 تھی جو اب بڑھ کر 73 ہو گئی ہے۔ دو روز کے دوران کراچی میں پولیو وائرس کے دو کیسوں کی تصدیق ہوئی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق شمالی اور جنوبی وزیرستان میں جون 2012 یعنی تقریباً ڈیڑھ سال سے پولیو سے بچاؤ کی مہم نہیں چلائی جا سکی۔ تاہم زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ امن وامان کی خراب صورت حال کی وجہ سے پشاور کے علاوہ کراچی میں بھی ایسے علاقے ہیں جہاں کسی بچے کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے نہیں پلائے جا سکے۔

ڈاکٹر زبیر مفتی بتاتے ہیں کہ کراچی کی 28 یونین کونسلیں ایسی ہیں جہاں پہ گذشتہ چند ماہ کے دوران کسی بچے کو پولیو سے بچاؤ کی ویکسین نہیں پلائی گئی۔ ان میں سے 21 یو نین کونسلیں ایسی ہیں جو پولیو کے حوالے سے ’ہائی رسک‘ یعنی زیادہ خطرناک قرار دی گئی ہیں۔

پاکستان واحد ملک ہے جس میں اس سال نہ صرف سب سے زیادہ پولیو کیس سامنے آئے بلکہ یہ وائرس پاکستان سے دیگر ممالک تک بھی پھیلا۔

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ نائجیریا میں اس بار پولیو کے نصف سے بھی کم کیس سامنے آئے جبکہ ہمسایہ ملک افغانستان میں 70 فیصد کمی دیکھنے کو ملی۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق ’افغانستان میں جتنے بھی پولیو کیسز ہیں ان میں ملنے والا وائرس پاکستان سے منتقل ہوا۔ دسمبر سنہ 2012 میں پاکستان کا پولیو وائرس مصر میں سامنے آنے والے کیسوں میں ملا، رواں سال یہی وائرس غزہ اور اسرائیل میں ملا ہے۔‘

یاد رہے کہ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق جولائی سنہ 2012 سے لے کر اب تک پاکستان میں پولیو کے خلاف جاری پروگرام سے وابستہ اور ان کی حفاظت پر مامور حملوں میں کل 25 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

خیال رہے کہ خیبر پختونخوا اور بالخصوص پشاور میں گذشتہ کچھ عرصہ سے پولیو کے قطرے پلانے کی مہم سے وابستہ محکمۂ صحت کے ملازمین اور رضاکاروں پر حملوں میں شدت آ رہی ہے۔

محکمۂ صحت کے حکام کے مطابق گذشتہ ایک سال کے دوران ان حملوں میں کم سے کم 17 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو چکے ہیں اور مرنے والوں میں سکیورٹی اہل کاروں کے علاوہ خواتین کارکن بھی شامل ہیں۔