خیبر: پولیو کارکنوں کا مہم میں شرکت سے انکار

- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں انسداد پولیو مہم کے کارکنوں نے پولیو ٹیموں پر حملوں کے باعث آئندہ ماہ سے شروع ہونے والی مہم میں حصہ لینے سے انکار کر دیا ہے۔
خیبر ایجنسی میں پولیو مہم سے وابستہ محکمہ صحت کے ایک اعلی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ دو دن قبل جمرود میں پولیو مہم کے سپروائزر کی مسلح افراد کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد ایجنسی بھر میں رضاکاروں نے کام کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس انکار سے خیبر ایجنسی میں ایک مرتبہ پھر لاکھوں بچوں کی زندگی خطرے میں پڑگئی ہے۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ خیبر ایجنسی میں پولیو کے قطرے پلانے کے حالیہ مہم میں 363 ٹیموں نے حصہ لیا تھا جن کے ارکان میں سے 30 فیصد محکمہ صحت کے ملازمین جبکہ دیگر رضاکاروں تھے۔
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ علاقے میں اگلی پولیو مہم جنوری کے مہینے میں شروع ہونی ہے۔
مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ خیبر ایجنسی میں مسلح افراد پولیو رضاکاروں کو ہدف بنا کر ہلاک کر رہے ہیں اور حالیہ واقعات میں اہلکاروں کو پولیو مہم کے دوران نہیں بلکہ ان کی رہائش گاہوں یا کام کرنے والے جگہوں پر نشانہ بنایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان حملوں کی وجہ سے تقریباً چار سو کے قریب رضاکاروں نے مہم میں حصہ لینے سے انکار کیا ہے جس میں بیشتر سرکاری و نجی سکولوں کے اساتذہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان رضاکاروں کو یومیہ تین سو پچاس روپے معاوضہ دیا جاتا ہے ، اس کے علاوہ انہیں سرکار کی طرف سے اور کچھ نہیں ملتا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’ایسی صورتحال میں جب رضاکاروں کو کوئی خاص معاوضہ بھی نہیں ملتا ہو اور وہ حملوں کی زد پر بھی ہو تو ایسے میں کوئی پاگل ہی ہوگا جو معمولی اجرت کے لیے اپنی زندگی داؤ پر لگائے گا۔‘
خیال رہے کہ خیبر ایجنسی میں گزشتہ چند دنوں سے پولیو ورکروں پر حملوں میں تیزی آئی ہے۔
سنیچر کو جمرود کے علاقے میں پولیو مہم کے سپروائز غلاف خان کو مسلح افراد نے ان کے دفتر میں فائرنگ کر کے ہلاک کیا تھا۔ اس سے قبل انسداد پولیو ٹیم کے ایک اہلکار محمد یوسف کو ان کے حجرے کے قریب فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ حکومتِ پاکستان کو ملک اور خصوصاً قبائلی علاقہ جات میں پولیو کے خاتمے کےحوالے سے سخت مزاحمت کا سامنا ہے جس کی بڑی وجہ پولیو ٹیموں پر جاری حملے ہیں۔
پاکستان میں گذشتہ ایک سال سے انسداد پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے جس کے بعد ان کارکنوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ان کے ساتھ پولیس اہل کار تعینات کر دیے جاتے ہیں۔
ان ٹیموں پر حملوں میں دو درجن کے لگ بھگ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تعداد ان ٹیموں کو تحفظ فراہم کرنے والے پولیس کے ارکان کی ہے۔







