سال 2013 پولیو مہم کے لیے مہلک رہا

- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان میں 2013 انسداد پولیو مہم کے حوالے سے انتہائی دشوار اور مہلک ترین سال رہا۔
اس سال نہ صرف گذشتہ سال کے مقابلے میں مجموعی طور پر پولیو کے کیسوں کی تعداد میں تقریباً 35 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا بلکہ پولیو مہم میں حصہ لینے والی ٹیموں پر پہلی مرتبہ سب سے زیادہ حملے ہوئے جس سے اس بیماری کے خلاف مہم میں ایک نیا پہلو سامنے آیا۔
پولیو کی بیماری کے خلاف سرگرم مختلف سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کی طرف سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق سال 2013 میں پولیو کے نئے کیس میں تقریباً 35 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اسی طرح سال 2012 ملک بھر میں اگر 58 بچے پولیو کے مرض کا شکار بنے تو 2013 کے اختتام پر یہ تعداد بڑھ کر83 تک جا پہنچی۔
گذشتہ سالوں کی طرح سال 2013 میں بھی ملک کے دیگر صوبوں کی نسبت خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقے پولیو کے وائرس سے سب سے زیادہ متاثر رہے۔

پاکستان بھر میں پورے سال کے دوران مجموعی طور پر83 پولیوکا شکار ہوئے جن میں سے 70 کا تعلق فاٹا اور خیبر پختونخوا سے ہے۔ جبکہ ان میں 60 کیسوں کی تصدیق قبائلی علاقہ جات اور 10 صوبے کے مختلف اضلاع سے سامنے آئے۔
فاٹا سیکریٹریٹ پشاور کے ایک اعلیٰ اہلکار کا کہنا ہے کہ 2013 میں پولیو کا وائرس زیادہ تر قبائلی علاقوں میں پوری طرح متحرک رہا۔ امن وامان کی بگڑتی صورتحال اور پولیو کی ٹیموں کو کام کی اجازت نہ ملنے سے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں تقریباً ڈیڑھ سال سے پولیو سے بچاؤ کی مہم نہیں چلائی گئی جس کی وجہ سے ان علاقوں میں زیادہ بچے اس موذی مرض کا شکار ہوئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ خیبر ایجنسی میں بھی کشیدگی اور پولیو کارکنوں پر حملوں کے باعث بیشتر علاقوں میں بچے ان قطروں سے محروم رہے۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ رواں سال صرف شمالی وزیرستان میں 31 بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی جبکہ جنوبی وزیرستان اور خیبرایجنسی میں یہ تعداد بالرتیب دو اور 17 رہی۔
پاکستان میں حکومت کو گذشتہ چند سالوں سے پولیو کے مرض پرقابو پانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ پہلے ملک کے دور دراز علاقوں میں والدین اپنے بچوں کو قطرے پلانے سے انکار کرتے تھے لیکن اب بہت سارے شہری علاقوں اور ان کے مضافات میں بھی والدین کی جانب سے بچوں کو یہ قطرے پلانے سے انکار کے واقعات سامنے آئے۔
پولیو ٹیموں پرحملوں نے بھی صورتحال کو متاثر کیا ہے اور یہ حملے ایک نئے اور سنگین پہلو کی صورت سامنے آئے ہیں جس سے بہت سارے علاقوں میں پولیو ورکر اپنے فرائض ادا کرنے سے بھی گھبراتے ہیں۔
مختلف ذرائع سے حاصل کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق سال 2013 میں خیبر پختونخوا میں انسداد پولیو ٹیموں پر سب سے زیادہ حملے ہوئے جس میں 17 افراد ہلاک اور 20 کے قریب زخمی ہوئے جبکہ کئی اہلکاروں کو اغواء بھی کیا گیا۔
ہلاک و زخمی ہونے والوں میں پولیو کے کارکن اور ان کی سکیورٹی پر مامور پولیس اور فرنٹیر کانسٹبلیری کے اہلکاروں کے علاوہ خواتین کارکن بھی شامل ہیں۔
ملک بھر میں گذشتہ ایک سال کے دوران مختلف حملوں میں مجموعی طور پر 30 سے زائد کارکن اور ان کے محافظ ہلاک ہو چکے ہیں۔
خیبر ایجنسی میں پولیو ٹیموں پر حالیہ حملوں میں دو افراد کی ہلاکت کے بعد وہاں پولیو مہم سے منسلک ملازمین اور رضاکاروں نے ڈیوٹی دینے سے انکار کر دیا۔

صوبہ خیبرپختونخوا میں بھی تحریک انصاف کی حکومت نے اس وائرس کا راستہ روکنے کواپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے لیکن ساتھ ہی صوبے میں وزیراعلیٰ کی مانیٹرنگ سیل کے سربراہ ڈاکٹر امتیاز علی شاہ نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ پولیو ٹیموں پر حملوں کی وجہ سے حکومت کی مشکلات روز بروز بڑھتی جاری ہے۔
انھوں نےکہا کہ پہلے والدین بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے انکار کرتے تھے لیکن اب اس عمل سے زیادہ سنگین یہ حملے بنتے جا رہے ہیں۔
ڈاکٹرامتیاز کہتے ہیں کہ’ایبٹ آباد میں ڈاکٹرشکیل آفریدی کے استعمال نے پولیو کے خلاف مہم کو نقصان پہنچایا ہے اور شاید ہم اس بات کو پوری طرح عوام پر واضح نہیں کر سکے ہیں کہ ایبٹ آباد میں جو کچھ ہوا اس کا پولیو سے کوئی تعلق نہیں تھا۔‘
ان کے مطابق جب تک متاثرہ علاقوں امن و امان کی صورتحال بہتر نہیں ہوتی اس وقت تک پاکستان میں پولیو کی بیماری پر قابو پانا ایک خواب ہی رہے گا۔
تاہم پریشان کن بات یہ ہے کہ امن و امان کی خراب صورتحال کی وجہ سے نہ صرف فاٹا اور خیبر پختونخوا متاثر رہے بلکہ اس کی وجہ سے ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کے بعض علاقوں کے ساتھ پنجاب اور بلوچستان میں بھی بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے نہیں پلائے جا سکے ۔
پاکستا ن میں پولیو وائرس کے خاتمے سے وابستہ عالمی ادارہ صحت کے اہلکار ڈاکٹر زبیر مفتی کا کہنا ہے کہ کراچی کی 28 یونین کونسلیں ایسی ہیں جہاں پر گذشتہ چند ماہ کے دوران کسی بچے کو پولیو سے بچاؤ کی ویکسین نہیں پلائی گئی اور ان میں سے 21 یونین کونسلیں پولیو کی بیماری کے حوالے سے آسان ہدف بن سکتی ہیں یعنی وہ ’ہائی رسک‘پر ہیں۔
ملک میں مختلف حکومتیں پولیو کی بیماری کے خاتمے کے حوالے سے وقتاً فوقتاً اقدامات تو لیتی رہی ہیں تاہم سیاسی رہنما اور جماعتیں اس مرض کے خلاف کھل کر اظہار خیال کرنے سے کتراتے رہے ہیں۔ سیاسی رہنماؤں نے پولیو کارکنوں پر شدت پسند تنظمیوں کی طرف سے جاری حملوں پر بھی خاموشی اختیار کی ہوئی ہے جس سے مختلف حلقوں کی جانب سے ان پر تنقید بھی ہو رہی ہے۔

تاہم خیبر پختونخوا میں حکمران جماعت تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے خود ضلع نوشہرہ میں پولیو مہم کا افتتاح کر کے ٹیموں پرحملوں کو انسانیت کے خلاف قرار دیا ہے جسے سیاسی جماعتوں کے حوالے سے ایک مثبت پیغام لیا گیا۔
پاکستان واحد ملک ہے جس میں اس سال نہ صرف سب سے زیادہ پولیو کیسز سامنے آئے بلکہ یہ وائرس پاکستان سے دیگر ممالک تک بھی پھیلا۔
ڈبلیو،ایچ او کا کہنا ہے کہ نائجیریا میں اس بار پولیو کے نصف سے بھی کم کیسز سامنے آئے جبکہ ہمسایہ ملک افغانستان میں 70 فیصد کمی دیکھنے کو ملی۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق’افغانستان میں جتنے بھی پولیو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں ان میں ملنے والے وائرس پاکستان سے منتقل ہوئے۔‘
وزیراعظم نواز شریف نے سال دو ہزارچودہ تک ملک سے پولیو کے خاتمے کا عزم کر رکھا ہے۔ لیکن زمینی صورتحال تسلی بخش اور حوصلہ افزا نظر نہیں آتی۔







