کراچی: چوہدری اسلم پر حملے کا مقدمہ درج، طالبان سربراہ اور ترجمان نامزد

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم پر حملے کا مقدمہ کالعدم تحریک طالبان کے سربراہ ملا فضل اللہ اور تنظیم کے ترجمان شاہد اللہ شاہد پر درج کیا گیا ہے۔
سرکار کی مدعیت میں گلشن ٹاؤن کے تھانے پی آئی بی میں دائر مقدمے میں قتل، انسداد دہشت گردی اور ایکسپلوزو ایکٹ کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
دوسری جانب ایس ایس پی انویسٹی گیشن ایسٹ منیر شیخ کا کہنا ہے کہ تحقیقات کا دائرہ تین کلومیٹر کے دائرے تک کردیا گیا ہے تاکہ بمبار کے اعضا اور گاڑی کے ٹکڑ ے برآمد کیے جاسکیں۔
انھوں نے مقامی لوگوں سے اپیل کی کہ ان کےگھروں، دکانوں یا گلی سے جو بھی ٹکڑا ملے اس کی اطلاع پولیس کو دی جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جائے وقوع سے ملنے والے ہاتھ کی مدد سے بمبار کی شناخت کی گئی ہے تاہم حملے کے لیے استعمال کی گئی گاڑی کے بارے میں تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔
تفتیشی افسران کا خیال ہے کہ اس دھماکے کے لیے سوزوکی پک اپ استعمال کی گئی ہے۔
ایس اسی پی نیاز کھوسو کا کہنا ہے کہ بارود سے بھری ہوئی گاڑی ٹکرانے سے خودکش بمبار کا سلم سر بھی نہیں ملتا جبکہ گاڑی کی شناخت میں مشکلات آتی ہیں، اس سے پہلے ان کے پاس کراچی میں میریئٹ دھماکے، عباس ٹاؤن اور سی آئی ڈی دھماکے کی مثالیں موجود ہیں۔
خیال رہے کہ پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں جمعرات کو ہونے والے ایک حملے میں سی آئی ڈی کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس چوہدری اسلم سمیت تین پولیس اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔
یہ دھماکہ جمعرات کی شام عیسیٰ نگری کے علاقے میں ہوا اور چوہدری اسلم کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا۔
کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ چوہدری اسلم کے قتل کے مقدمے میں ملا فضل اللہ اور ان کی نامزدگی ’ایک اعزاز کی بات ہے۔‘
شاہد اللہ شاہد نے بیان میں چوہدری اسلم پر الزام عائد کیا کہ وہ دوسرے پولیس افسروں کی طرح جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی کرتے تھے۔
کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد نے کراچی میں ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
انھوں نے کہا تھا کہ چوہدری اسلم کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ تحریک طالبان کے پچاس سے زیادہ کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل میں ملوث تھے۔
چوہدری اسلم کا نام گذشتہ کچھ عرصے سے کراچی میں طالبان اور شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں آتا رہا۔
اس کے علاوہ وہ لیاری میں جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کارروائیوں میں بھی اہم کردار ادا کرتے رہے تھے۔







