اشاروں کنایوں میں باتیں

اس واقعے کے ذمہ دار کون ہیں اس کا جواب ہر سیاسی جماعت کی جانب سے مختلف صورت میں آیا
،تصویر کا کیپشناس واقعے کے ذمہ دار کون ہیں اس کا جواب ہر سیاسی جماعت کی جانب سے مختلف صورت میں آیا
    • مصنف, طاہر عمران
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان میں جو بھی اہم واقعہ رونما ہو سوشل میڈیا اس واقعے کے ساتھ ہی سرگرم ہو جاتا ہے۔

کراچی میں پولیس افسر چوہدری اسلم کی ہلاکت کے ساتھ ہی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر گفتگو کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

سوشل میڈیا پر ردِعمل کو دیکھا جائے تو اس میں پاکستان کی سیاسی تقسیم اور مبصرین کے مطابق ابہام نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے۔

ایک جانب جہاں پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے حامی افراد نے اس واقعے پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے وہیں ان جماعتوں کی حامیوں کی جانب سے تحریکِ انصاف اور حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز پر تنقید کا سلسلہ شروع ہو گیا اور اس کا موضوع حکومت اور عمران خان کا طالبان سے مذاکرات پر اصرار تھا۔

ایکسپریس ٹریبیون کی بلاگ ایڈیٹر عتیقہ رحمان نے ٹویٹ کی کہ ’میں سوچتی ہوں کہ وہ پولیس افسر کیسا سوچتے ہوں گےجنھوں نے چوہدری اسلم کے ساتھ اس لڑائی میں حصہ لیا؟ وہ حکومت کے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں اب کیا سوچتے ہوں گے؟‘

ندیم اسلم کی بات کو ٹویٹ کیا گیا کہ ’پاکستان نے بہت سے باہمت افراد پیدا کیے ہیں مگر کسی قوم کو اپنے بہادر شہریوں کو اتنا بہادر ہونے کا نہیں کہنا چاہیے۔‘

بلاول بھٹو زرداری نے اپنی ٹویٹ میں طالبان کو سخت الفاظ میں لکھا ’تحریک طالبان پاکستان نے میرے ایس ایس پی کو مار ڈالا‘۔

اس کے بعد تحریکِ انصاف کی رہنما شیریں مزاری نے ٹویٹ کی جس میں انھوں نے بہت مہارت سے بات بھی کہہ دی اور ایک ٹویٹ کے مطابق پہلو بچا کر بھی نکل گئیں۔

شیریں مزاری نے ٹویٹ کی کہ ’چوہدری اسلم ایک بہادر پولیس افسر تھے جو دہشت گردی کا نشانہ بن کر شہید ہوگئے۔ انھوں نے اسے کراچی میں دہشت گردوں کے خلاف لڑائی میں ایک بڑا نقصان قرار دیا ہے۔‘

بات شیریں مزاری کی اس ٹویٹ تک نہیں رکی اور جلد ہی پاکستان تحریکِ انصاف کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ٹویٹ کی گئی کہ ’چوہدری اسلم پر کراچی میں ہونے والا حملہ صوبائی حکومت اور صوبائی وزارتِ داخلہ کی ناکامی ہے جنھوں نے انہیں مناسب سکیورٹی فراہم نہیں کی۔‘

انسانی حقوق کمیشن کے سابق سربراہ اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما افراسیاب خٹک نے ٹویٹ کی کہ ’چوہدری اسلم نے جنگ کو صفِ اول میں رہ کر لڑا مگر کیا یہ حکومت کو جگا پائے گا جو دہشت گردوں کو خوش کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے؟‘

ملک حامد محمود نے ٹویٹ کی کہ ’اگر ایس ایس پی شہید ہو گئے ہیں تو کون محفوظ ہے۔اور مجھے ڈر ہے اس کے بعد اور کتنے لوگ متاثر ہوں گے؟ کون ہے ذمہ دار؟ یہ جاگنے کا وقت ہے۔‘

اور ایک ٹویٹ میں کہا گیا ’مذاکرات کا ڈرامہ رچا کر بہادر سپاہیوں کو مروانے والے ہمارے اپنے سیاستدان اور فوجی لیڈر ہیں۔‘