کراچی: پولیس افسران شدت پسندوں کے نشانے پر

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پولیس کئی دہائیوں سے جرائم پیشہ افراد کے نشانے پر ہے اور حالیہ ٹارگٹڈ آپریشن کے بعد ان حملوں میں شدت آگئی ہے۔
ایڈیشنل آئی جی شاہد حیات کا کہنا ہے کہ گذشتہ ایک سال میں 174 پولیس افسران اور اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ پولیس ملزمان کا پیچھا کر رہی ہے اور جواب میں وہ ان پر حملے کر رہے ہیں۔
شاہد حیات کا کہنا ہے کہ پانچ ستمبر سے 21 دسمبر تک 601 پولیس مقابلے ہوئے ہیں جن میں 84 ملزمان مارے گئے۔
انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال 159 مبینہ ملزمان پولیس مقابلے میں ہلاک کیے گئے ہیں اور ان میں سے 28 کا تعلق کالعدم شدت پسند تنظیموں سے تھا۔
گذشتہ سال نومبر میں ایس پی چوہدری اسلم نے ایک مبینہ مقابلے میں لشکر جھنگوی کراچی کے امیر گل حسن سمیت چھ شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چوہدری اسلم کے بقول گل حسن شہر میں مسجد حیدری، امام بارگاہ علی رضا میں خودکش بم حملوں اور سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس مقبول باقر پر حملے کے سرغنہ تھے۔
ان ہلاکتوں کے بعد اہل سنت و الجماعت کا بیان سامنے آیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ ان کے کارکنوں کو گرفتار کر کے جعلی مقابلے میں ہلاک کیا گیا۔
چوہدری اسلم پر حملے کی ذمے داری کالعدم تحریک طالبان نے قبول کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ چوہدری اسلم ان کے 50 سے زائد کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل میں ملوث تھے۔
کراچی میں چوہدری اسلم کے علاوہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں سرگرم ایس پی راجہ عمر خطاب پر بھی دو بار حملے کی کوشش کی گئی ہے، اسی طرح ملیر میں ایس پی راؤ انوار کی بکتر بند گاڑی پر حملہ کیا گیا تھا جس میں چار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائی کا ٹاسک سی آئی ڈی پولیس کے پاس ہے۔
سال 2010 میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے قریب واقع سی آئی ڈی کے دفتر پر بارود سے بھرے ٹرک کے حملے میں 21 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
گذشتہ سال بیس دسمبر کو سی آئی ڈی کے سابق انسپکٹر اور ایس ایچ او ماڑی پور شفیق تنولی پر حملہ کیا گیا تھا، جس میں وہ شدید زخمی ہوگئے اور دو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے زیادہ تر وہ افسران اور اہلکار نشانہ بنتے تھے جو بعض سیاسی جماعت کے کارکنوں اور منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی میں ملوث ہوتے تھے لیکن چند سالوں میں اکثر وہ افسران نشانے پر رہے ہیں جن کا شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائیوں میں اہم کردار ہے۔
آئی جی شاہد ندیم کا کہنا ہے کہ جن افسران کی زندگی کو خطرات ہیں یا انھیں دھمکیاں ملی ہیں، انھیں ممکنہ سکیورٹی فراہم کی جاتی ہے۔







