ایکسپریس نیوز کے دفتر پر حملے کے خلاف مظاہرے

کراچی میں پیر کی شب ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز پر حملے کے خلاف آج ملک بھر میں صحافیوں نے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔
پیر کی رات موٹرسائیکلوں پر سوار مسلح افراد نے کراچی میں ایکسپریس ٹی وی کے دفاتر پر کریکر بم پھینکے اور فائرنگ کی تھی جس سے ایک گارڈ زخمی ہوگیا تھا۔
دوسری جانب وزیر اطلاعات پرویز رشید کا کہنا ہے کہ حکومت میڈیا پر ہونے والے حملوں اور دہشت گردی کے دیگر واقعات سے نمٹنے کے لیے قانون سازی کر رہی ہے۔
وزیرِ اطلاعات نے یہ بات منگل کی صبح اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے جمع ہونے والے صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ صحافیوں کی تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کی کال پر ہونے والے اس احتجاجی مظاہرے میں کئی سیاسی رہنما بھی شریک ہوئے۔
صحافیوں نے اس موقع پر سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ایکسپریس ٹی وی پرحملہ کرنے والوں کوگرفتار کرے اور اس حوالے سے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر اٹھنے والے سوالوں کا جواب دے۔
صحافیوں کے مطالبات پر عملدرآمد کی یقین دہانی کراتے ہوئے وزیرِ اطلاعات پرویز رشید کا کہنا تھا کہ حکومت دہشت گردی سے بہتر طریقے سے نمٹنے اور دہشت گردوں کو سزائیں دلوانے کے لیے تین آرڈینینس لاچکی ہے جو سینٹ میں پیش کیے جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس قانون سازی کے بعد حکومتی ادارے اور عدالتیں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے زیادہ بہتر کام اور فیصلے کرسکیں گی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت آئین کی پاسداری کرے گی اور صوبے کے معاملات میں مداخلت کیے بغیر اپنا کردار ادا کرے گی۔
وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہو رہا ہے کہ ملک کی سیاست، صحافت اور حکومت دہشت گردی سے نمٹنے کے معاملے پر متفق ہیں اور پالیسیوں کے حوالے سے ایک دوسرے سے اختلاف رکھنے کے باوجود وہ اس معاملے پر یکجا ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نامہ نگار محمود جان بابر کے مطابق صحافیوں نے اس موقع پر حکومت کی سرد مہری اور ایکسپریس ٹی وی پر حملے کے وقت حکومتی اداروں کی خاموشی پر تنقید کی اور کہا کہ کراچی میں ہونے والے حملے سے لگ رہا تھا جیسے یہ سب ایک ملی جلی سازش ہے۔
پی ایف یو جے کے صدراسلم بٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ پریشانی کی بات یہ ہے کہ حکومت کوئی اقدام کرنے کے بجائے صرف ان کے مطالبات کی حمایت کرتی ہے۔ انہوں نے اس موقع پر ملوث لوگوں کی گرفتاری کے لیے حکومت کو اڑتالیس گھنٹے کی ڈیڈ لائن دی۔







