کرک:’منشیات کے کاروبار کی رپورٹنگ پر صحافی قتل‘

خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں منشیات کے بڑھتے ہوئےکاروبار کے بارے میں خبر دینے والے صحافی کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا۔
مقامی پولیس اہلکار نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ ایوب خٹک نامی صحافی اپنے بیٹے شمس الرحمان کے ساتھ مسجد میں نماز ادا کرنے کے بعد گھر جا رہے تھے کہ ان پر فائرنگ کی گئی جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔
ایوب خٹک کے بیٹے نے پولیس کو بتایا ہے کہ ان کے والد کی کسی کے ساتھ دشمنی نہیں تھی۔
کرک، بنوں، کوہاٹ اور لکی مروت کے صحافیوں نے اس واقعے کے خلاف احتجاج کیا ہے۔
کرک سے صحافی ریاض خٹک نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ایوب خٹک نے علاقے میں منشیات کے کاروبار پر ایک خبر دی تھی جس پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔
ان کے مطابق دو روز پہلے ملزمان کو عدالت نے ضمانت پر رہا کر دیا تھا جس کے بعد ایوب خٹک کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ایوب خٹک کی کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی اور اس کارروائی سے پہلے ملزمان نے ایوب خٹک کو دھمکی دی تھی کہ انہوں نے خبر شائع کروا کے اچھا نہیں کیا ہے۔
کرک پریس کلب نے اس واقعہ کے خلاف سات روز تک سوگ کا اعلان کیا ہے اور انتظامیہ سے کہا ہے کہ ملزمان کو چوبیس گھنٹوں کے اندر گرفتار کیا جائے ورنہ وہ اپنے احتجاج کا دائرہ دیگر علاقوں تک پھیلا دیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس کا کہنا ہے ایف آئی آر میں جن ملزمان کی نشاندہی کی گئی ہے وہ دیگر مقدمات میں بھی پولیس کے پاس گرفتار رہے ہیں اور دو روز پہلے ہی ان کی ضمانت پر رہائی ہوئی تھی۔
ایوب خٹک نے پسماندگان میں چار بیٹے چھ بیٹیاں اور ایک بیوہ چھوڑی ہے۔ وہ دس سال سےصحافت کے شعبے سے وابستہ تھے جبکہ اس سے پہلے وہ ادویات کا کاروبار کرتے تھے۔
کرک میں اگرچہ صحافیوں کو بعض خبروں کی اشاعت پر دھمکیاں تو ملتی رہتی تھیں لیکن اس طرح کا واقعہ پہلے کبھی پیش نہیں آیا ہے۔







