بی بی سی کو نامہ نگار سے پوچھ گچھ پر تشویش

بی بی سی نے سری لنکا میں انسداد دہشت گردی پولیس کی بی بی سی تمل سروس کے نمائندے سے پوچھ گچھ کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
تمل سروس کے نمائندے پونیّہ منیکاواسگم سے سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں پوچھ گچھ کی گئی ہے۔
انھوں نے دو تمل قیدیوں سے ٹیلی فون پر بات کی تھی اسی بابت ان سے سری لنکا کی دہشت گردی مخالف پولیس نے پوچھ گچھ کی ہے۔
واضح رہے کہ انہیں اس سوال و جواب کے دوران کسی وکیل کی خدمات حاصل کرنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔
بی بی سی کا کہنا ہے کہ وہ ’اس بات پر اعتماد ہے کہ انھوں نے جو کام کیا تھا وہ ایک صحافی کے معمول کے فرائض میں شامل ہے۔‘
دریں اثناء پریس کی آزادی کے لیے آواز اٹھانے والی تنظیموں نے اپنے بیانات میں صحافی کے ساتھ اس سلوک کی مذمت کی ہے۔
سری لنکا میں جرنلسٹ فار ڈیموکریسی (جے ڈی ایس) اور رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) نے ایک مشترکہ بیان میں کہا: ’حکام دھکمانے اور ڈرانے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ سری لنکا میں پہلے سے ہی میڈیا کی آزادی کی خستہ حالت پر مزید قدغن ہے۔‘
بی بی سی نے اپنے ایک بیان میں کہا: ’بی بی سی کو اس بات پر تشویش ہے کہ پونیّہ منیکاواسگم کو ٹیرارزم انوسٹیگیشن ڈویژن کی جانب سے انٹرویو کے لیے بلایا گیا اور انہیں قانونی امداد نہیں دی گئی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’منیکا واسگم بی بی سی عالمی سروس کے لیے کئی برسوں سے رپورٹنگ کرتے آ رہے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ ان کی تمام سرگرمی معمول کی صحافتی ڈیوٹی کا حصہ ہیں۔‘
سری لنکا کو صحافی کے لیے دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس سال پریس کی آزادی کے اعتبار سے آر ایس ایف کی تیار کردہ رپورٹ میں 179 ممالک میں سری لنکا کا نمبر 162 واں تھا۔
سوموار کو منیکاواسگم کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی سربراہ ناوی پلے کی سری لنکن حکومت پر سخت تنقید کے بعد سامنے آیا ہے۔
ناوی پلے نے سری لنکا کے ایک ہفتے کے دورے کے بعد تنقید کی تھی کہ سری لنکا کی حکومت آمریت پسند بنتی جا رہی ہے۔
’حالیہ دورے میں انہیں آزادی سے سفر کرنے کی اجازت تھی لیکن سری لنکا کے جو شہری ان سے ملنے آئے انہیں سکیورٹی فورسز نے پریشان کیا اور دھمکایا‘۔







