’28 تک لاپتہ افراد بازیاب نہ ہو سکے تو وزیرِدفاع عدالت میں پیش ہوں گے‘

اپنے ریمارکس میں چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ کافی پرانا ہے اور وقت مانگنا صرف بہانہ ہے
،تصویر کا کیپشناپنے ریمارکس میں چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ کافی پرانا ہے اور وقت مانگنا صرف بہانہ ہے

لاہور میں لاپتہ افراد سے متعلق مقدمے کی سماعت ہوئی جس کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے 35 لاپتہ افراد کو عدالت میں پیش نہ کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔

چیف جسٹس نے وزارتِ دفاع کو ان افراد کی بازیابی کے لیے 28 نومبر تک کی مہلت دی اور کہا کہ اگر 28 نومبر تک یہ لاپتہ افراد بازیاب نہ ہو سکے تو پھر وزیردفاع خود عدالت میں پیش ہوں۔

<link type="page"><caption> ’لاپتہ افراد کا معاملہ سب سے بڑا مسئلہ ہے‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/08/130826_missing_persons_cj_zis.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> لاپتہ کیس: پہلی بار آئی ایس آئی بریگیڈیئر کو سمن جاری</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/07/130723_missing_isi_brig_ra.shtml" platform="highweb"/></link>

لاپتہ افراد سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کہ لاپتہ افراد جرائم پیشہ ہیں تو ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے لیکن کسی بھی شہری کو ایک منٹ بھی غیرقانونی طور پر حراست میں رکھنا قانون کی خلاف ورزی ہے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

اس ریمارکس پر عدالت کو بتایا گیا کہ اس وقت وزیر دفاع کا عہدہ بھی وزیرِاعظم نواز شریف کے پاس ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدی کا کہنا تھا کہ اس معاملے کی تہہ تک جائیں گے، چاہے حکومت کے سربراہ کو کیوں نہ بلانا پڑے۔

لاپتہ افراد سے متعلق مقدمے کی سماعت کے لیے چیف جسٹس نے سیکرٹری دفاع کو طلب کر رکھا تھا جو عدالت میں پیش نہیں ہوسکے۔ ایڈیشنل سیکرٹری دفاع نے عدالت میں اپنے محکمے کی نمائندگی کی اور چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بتایا کہ سیکرٹری دفاع علیل ہیں لہٰذا وہ آج عدالت میں پیش نہیں ہوسکتے۔

چیف جسٹس نے ایڈیشنل سیکرٹری دفاع کو کہا کہ وہ وزیرِاعظم، وزیرِ دفاع یا پھر وردی والوں سے رابطہ کر کے بتائیں کہ ان 35 لاپتہ افراد کے بارے میں جواب کس نے دینا ہے۔

چیف جسٹس نے ان لاپتہ افراد کو عدالت میں پیش کرنے کے لیے پہلے دن ایک بجے تک کی مہلت دی تاہم ان افراد کو پیش نہ کیا جاسکا۔

ایک بجے جب مقدمے کی سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو ایڈیشنل سیکرٹری دفاع نے عدالت کو بتایا کہ انھیں سیکرٹری دفاع کا اضافی چارج دے دیا گیا ہے انھیں بازیابی کے لیے مزید وقت دیا جائے۔

جس پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور مزید وقت دینے سے انکار کردیا۔ اپنے ریمارکس میں چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ کافی پرانا ہے اور وقت مانگنا صرف بہانہ ہے، یہ آرٹیکل نو کا معاملہ ہے اس میں بہانہ بازی نہ کریں۔

انھوں نے کہا کہ یہ افراد لاپتہ نہیں بلکہ آپ ہی کی حراست میں ہیں، انھیں عدالت میں پیش کریں۔