بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے لانگ مارچ

بلوچستان سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے پیدل لانگ مارچ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے پیدل لانگ مارچ کا آغاز 27 اکتوبر کو کوئٹہ سے ہوا جس کی منزل 700 کلومیٹر دور کراچی شہر ہے۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے صوبہ بلوچستان سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے پیدل لانگ مارچ کا آغاز 27 اکتوبر کو کوئٹہ سے ہوا جس کی منزل 700 کلومیٹر دور کراچی شہر ہے۔
اس مارچ کی قیادت بلوچستان سے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار مسنگ بلوچ پرسنز کے وائس چیئرمین قدیر بلوچ کر رہے ہیں
،تصویر کا کیپشناس مارچ کی قیادت بلوچستان سے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار مسنگ بلوچ پرسنز کے وائس چیئرمین قدیر بلوچ کر رہے ہیں
بلوچستان کی تاریخ میں یہ پیدل لانگ مارچ اپنی نوعیت کا پہلا احتجاج ہے اور اس میں خواتین اور بچے بھی شریک ہیں جن میں سب کے عزیز و اقارب میں سے کوئی نہ کوئی لاپتہ فرد شامل ہے۔
،تصویر کا کیپشنبلوچستان کی تاریخ میں یہ پیدل لانگ مارچ اپنی نوعیت کا پہلا احتجاج ہے اور اس میں خواتین اور بچے بھی شریک ہیں جن میں سب کے عزیز و اقارب میں سے کوئی نہ کوئی لاپتہ فرد شامل ہے۔
اس لانگ مارچ کے شرکا نے بتایا کہ وہ روزانہ 30 سے 40 میل فاصلہ طے کرتے ہیں اور ایک آبادی سے دوسری آبادی تک انہیں مقامی دوست احباب چھوڑنے کے لیے جاتے ہیں۔
،تصویر کا کیپشناس لانگ مارچ کے شرکا نے بتایا کہ وہ روزانہ 30 سے 40 میل فاصلہ طے کرتے ہیں اور ایک آبادی سے دوسری آبادی تک انہیں مقامی دوست احباب چھوڑنے کے لیے جاتے ہیں۔
اس مارچ میں شریک فرزانہ مجید کے بھائی ذاکر مجید بلوچ گذشتہ چار سال سے زیادہ عرصے سے لاپتہ ہیں۔ فرزانہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اگر میرے بھائی کا کوئی قصور ہے تو اسے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے کیونکہ ایک ذمہ دار ریاست اپنے شہریوں سے ایسا سلوک نہیں کرتی۔‘
،تصویر کا کیپشناس مارچ میں شریک فرزانہ مجید کے بھائی ذاکر مجید بلوچ گذشتہ چار سال سے زیادہ عرصے سے لاپتہ ہیں۔ فرزانہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اگر میرے بھائی کا کوئی قصور ہے تو اسے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے کیونکہ ایک ذمہ دار ریاست اپنے شہریوں سے ایسا سلوک نہیں کرتی۔‘
کراچی پہنچنے کے بعد لانگ مارچ کے شرکا وہاں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے پہلے سے جاری علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ میں بیٹھیں گے۔
،تصویر کا کیپشنکراچی پہنچنے کے بعد لانگ مارچ کے شرکا وہاں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے پہلے سے جاری علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ میں بیٹھیں گے۔