’لاپتہ افراد کا معاملہ سب سے بڑا مسئلہ ہے‘

چیف جسٹس افتخار چودھری بلوچستان بدامنی کیس کی سماعت کرنے والے بینچ کے سربراہ ہیں
،تصویر کا کیپشنچیف جسٹس افتخار چودھری بلوچستان بدامنی کیس کی سماعت کرنے والے بینچ کے سربراہ ہیں

پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ لاپتہ افراد کا معاملہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر ملکی ادارے کام کرتے رہیں گے تو بلوچستان کے لوگوں کو مایوسی نہیں ہوگی۔

یہ ریمارکس انہوں نے پیر کو کوئٹہ میں بلوچستان بدامنی کیس کی سماعت کے دوران دیے۔ کیس کی سماعت تین رکنی بینچ کر رہا ہے جس کے دیگر اراکین جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس عظمت سعید ہیں۔

گذشتہ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق جو ہدایات اور احکامات جاری کیے تھے ایڈیشنل اٹارنی جنرل شاہ خاور نے ان سے متعلق رپورٹ پیش کی۔

بینچ نے رپورٹ پر عدم اطیمنان کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا ’خدا کے لیے اس آئین پر عمل درآمد کیا جائے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ آئین کے تحت کوئی بھی ایجنسی کسی کو غیر قانونی طور پر حراست میں نہیں رکھ سکتی اور نہ ہی بین الاقوامی کنوینشنز میں اس کی اجازت ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ’ہم نے سب کو کہا تھا کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ بڑا معاملہ ہے، سب کو بیٹھا کر اس مسئلے کو حل کیا جائے لیکن تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔‘

ان کا کہنا تھا ’میں اس بات پر حیران ہوں کہ جس طرح عدلیہ اس معاملے کو سنجیدہ لے رہی ہے اس طرح حکومت اس بارے میں سنجیدہ کیوں نہیں ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ یہاں انچ انچ پر ایف سی ہے لیکن لاپتہ لوگ نہیں ملتے اور مسخ شدہ لوگوں کی بازیابی کا سلسلہ جاری ہے۔

چیف جسٹس نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل کو کہا کہ اگر وہ عدالت کے احکامات پر عمل درآمد نہیں کرسکتے تو عدالت کو بتایا جائے اور پھر متعلقہ حکام کو طلب کیا جائے گا۔

جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ عدالت کے سامنے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ سرکار تفتیش کی راہ میں رکاوٹ ہے۔