لاپتہ افراد کے لواحقین کا مارچ کراچی کے نزدیک

کوئٹہ سے شروع ہونے والا مارچ کراچی کے قریب پہنچ گیا ہے

اس مارچ میں بچوں کے علاوہ بچے اور بچیاں بھی شریک تھیں۔
،تصویر کا کیپشناس مارچ میں بچوں کے علاوہ بچے اور بچیاں بھی شریک تھیں۔
بلوچستان کے لاپتہ افراد کے حق میں آواز اٹھانے کی خاطر ان کے لواحقین نے کوئٹہ سے کراچی تک پیدل مارچ کیا۔
،تصویر کا کیپشنبلوچستان کے لاپتہ افراد کے حق میں آواز اٹھانے کی خاطر ان کے لواحقین نے کوئٹہ سے کراچی تک پیدل مارچ کیا۔
یہ لوگ اپنے پیاروں کی تصویریں اٹھائے سات سو کلو میٹر کا سفر طے کر کے کراچی پہنچے۔
،تصویر کا کیپشنیہ لوگ اپنے پیاروں کی تصویریں اٹھائے سات سو کلو میٹر کا سفر طے کر کے کراچی پہنچے۔
خصدار سے لاپتہ ڈاکٹر دین محمد کی بیٹی سمی بلوچ بھی ان میں شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے وہ یہ سوچ کر مارچ کا حصہ بنی ہیں کہ کوئی تو ان کے درد کو محسوس کرے گا۔
،تصویر کا کیپشنخصدار سے لاپتہ ڈاکٹر دین محمد کی بیٹی سمی بلوچ بھی ان میں شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے وہ یہ سوچ کر مارچ کا حصہ بنی ہیں کہ کوئی تو ان کے درد کو محسوس کرے گا۔
لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے اس پیدل لانگ مارچ کا آغاز 27 اکتوبر کو کوئٹہ سے کیا گیا تھا۔
،تصویر کا کیپشنلاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے اس پیدل لانگ مارچ کا آغاز 27 اکتوبر کو کوئٹہ سے کیا گیا تھا۔