راولپنڈی میں کرفیو، عدالتی تحقیقات کا اعلان

یہ ہنگامہ آرائی جامعہ تعلیم القرآن کے قریب ہوئی ہے
،تصویر کا کیپشنیہ ہنگامہ آرائی جامعہ تعلیم القرآن کے قریب ہوئی ہے

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی میں یوم عاشورہ کے جلوس کے دوران فرقہ وارانہ گشیدگی کےواقعے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تفتیش کے لیے عدالتی کمشن بنایا جائے گا۔

وزیرِ اعلیٰ شہباز شریف نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ وہ لاہور ہائی کورٹ سے درخواست کریں گے کہ اس واقعے کی تحقیقات کسی سینیئر جج کی نگرانی میں کروائی جائیں۔

یاد رہے کہ جمعے کے روز راولپنڈی میں ایک ماتمی جلوس کے دوران فرقہ وارانہ کشیدگی اور پھر تصادم کے نتیجے میں آٹھ افراد ہلاک اور 40 کے قریب زخمی ہو گئے۔ شدید کشیدگی کے باعث کئی مقامات پر کرفیو نافذ کر دیا گیا۔

پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن پی ٹی وی نے حکومتِ پنجاب کے ترجمان کے حوالے سے بتایا کہ یومِ عاشورہ پر فرقہ وارانہ تصادم کی وجہ سے علاقے میں کشیدگی کے باعث کرفیو نافذ کیا گیا ہے۔

ترجمان کے مطابق راولپنڈی میں کرفیو 24 گھنٹے کے لیے نافذ کیا گیا ہے جو 16 نومبر کو رات 12 بجے تک نافذ رہے گا۔ ترجمان کے مطابق کرفیو کا نفاذ پوٹھوہار اور راول ٹاؤن کے 19 تھانوں کی حدود میں ہوگا۔

سرکاری ٹی وی نے ڈی سی او راولپنڈی کے حوالے سے بتایا کہ کرفیو کا اطلاق راولپنڈی کنٹونمنٹ کے علاقے پر بھی ہوگا۔

سرکاری ریڈیو کے مطابق کشیدگی کے دوران کپڑوں کی مارکیٹ کو بھی آگ لگا دی گئی جبکہ حالات پر قابو پانے کے لیے فوج کو طلب کیا گیا ہے۔

راولپنڈی کے علاقے کالج روڈ سے ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ کسی کو گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں اور انھوں نے گلی میں فوج کے جوانوں کو دیکھا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس تصادم کے دوران آٹھ افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوئے ہیں۔ اے ایف پی نے راولپنڈی کے ضلعی ہسپتال کے ایک ڈاکٹر قاسم خان کے حوالے سے بتایا کہ ’تصادم میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد آٹھ ہو گئی ہے جبکہ 44 زخمی افراد کو ہسپتال لایا گیا ہے جن میں 13 زخمیوں کو گولیاں لگیں ہیں۔‘

ریسکیو 1122 کے ایک اہلکار نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ انھوں نے جائے وقوع سے سات لاشیں اور دس زخمیوں کو ہسپتال پہنچایا ہے۔ اہلکار نے بتایا کہ راجہ بازار کے علاقے میں کلاتھ مارکیٹ میں لگنے والی آگ پر بڑی حد تک قابو پالیا گیا ہے۔

اہلکار نے کہا کہ امدادی کارروائیوں میں پولیس اور رینجرز سمیت قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی ان کے ساتھ ہیں۔انھوں نے کہا کہ’کرفیو لگنے کے بعد ہمیں آگ پر قابو پانے میں آسانی ہوئی ہے کیونکہ اس سے پہلے ہنگامہ آرائی کی وجہ سے مشکلات کا سامنا تھا۔‘

دونوں گروہوں کے درمیان تصادم میں ایک دوسرے پر پھتراؤ بھی کیا گیا
،تصویر کا کیپشندونوں گروہوں کے درمیان تصادم میں ایک دوسرے پر پھتراؤ بھی کیا گیا

اس سے پہلے پولیس حکام نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ یوم عاشور کا جلوس جب فوارہ چوک کے قریب واقع جامعہ تعلیم القرآن کے قریب سے گزر رہا تھا تو جامعہ سے جلوس جلد ختم کرنے کا اعلان کیا گیا اور اس کے بعد تصادم شروع ہو گیا۔ مشتعل افراد نے املاک کو نذر آتش کرنا شروع کر دیا۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جماعت اہل سنت و الجماعت کے ایک رکن اونیب فاروقی نے دعویٰ کیا کہ ہلاک ہونے والے افراد میں سے اکثر کا تعلق ان کی تنظیم سے ہے۔

شہر کے اکثر علاقوں میں موبائل سروس بند ہونے کی وجہ سے رابطوں میں مشکلات درپیش ہیں۔

اس سے پہلے پنڈی پولیس کے کنٹرول روم میں ڈیوٹی پر موجود اہلکار نے اس بات کی تصدیق کی کہ ہسپتال میں چھ لاشیں لائی گئی ہیں اور حالات کو قابو کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔