یوم عاشور کے جلوس پرامن طریقے سے اختتام کی طرف

پاکستان میں یومِ عاشور کے موقع پر سخت سکیورٹی انتظامات میں ماتمی جلوس اپنے روایتی راستوں سے گزرتے ہوئے اختتام پذیر ہونا شروع ہو گئے ہیں جبکہ ابھی تک کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
یوم عاشور کے مطابق پر صرف صوبہ پنجاب میں ماتمی جلوسوں کی گزرگاہوں اور مجالس عزا کے مقامات پر ایک لاکھ سے زیادہ سکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے جبکہ کراچی میں پولیس حکام کے مطابق ماتمی جلوسوں کے اختتام پر سکیورٹی ہائی الرٹ رہے گی تاکہ اعزا دار خیریت سے اپنے گھر واپس پہنچ سکیں۔
گزشتہ دنوں تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد طالبان کی طرف سے انتقام لینے کی دھمکی دی گئی تھی جس کے بعد سے محرم کے دوران دہشت گردی کے واقعات پیش آنے کے خدشات بڑھ گئے تھے۔
پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، کراچی اور کوئٹہ سمیت ملک کے 80 سے زیادہ شہروں میں شدت پسندی کے خطرے کے پیش نظر موبائل فون سروس بند ہے اور موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر بھی پابندی ہے۔
<link type="page"><caption> ’دہشت گردی کے دو منصوبے ناکام‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/11/131114_karachi_terrorist_plots_foiled_tim.shtml" platform="highweb"/></link>
اس کے علاوہ ماتمی جلوسوں کی گزرگاہوں اور امام بارگاہوں کی کلوز سرکٹ کیمروں کے علاوہ بعض شہروں میں ہیلی کپٹروں سے نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔
اسی طرح پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں نے جلوسوں کے راستوں کی چیکنگ کے لیے خصوصی سراغ رساں کتوں کی مدد بھی حاصل کی۔
پاکستان میں دہشتگردی کے اکثر واقعات میں موبائل فون ڈیٹونیٹر کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں اس لیے گذشتہ کئی سالوں سے عید اور عاشورہ کے موقع پر موبائل فون سروسز کو وقتی طور پر معطل کیا جاتا رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جمعرات کی رات کراچی میں حکام کے مطابق ناگن چورنگی پر واقع امام بارگاہ کے قریب نامعلوم افراد نے دستی بم سے حملہ کیا۔
اس سے قبل کراچی میں پولیس اور رینجرز نے گذشتہ دو روز میں تخریب کاری کی دو منصوبے ناکام بنانے کا دعویٰ کیا جبکہ ایک مقابلے میں شدت پسند تنظیم لشکر جھنگوی کے مقامی امیر گل حسن بلوچ سمیت نو مبینہ دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔

پاکستان میں گذشتہ کئی سالوں سے محرم کے دس روز یعنی عشرہ محرم کے لیے غیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے جاتے ہیں لیکن اس بار کالعدم تحریکِ طالبان کی جانب سے ممکنہ پرتشدد کارروائیوں کے پیشِ نظر ان انتظامات میں غیر معمولی اضافہ نظر آتا ہے۔
کراچی میں پولیس اور رینجرز کے ساتھ فوج کے جوانوں کو بھی تعینات کیا گیا ہے اور ماتمی جلوس کی گزرگاہ ہوں کو دو روز پہلے ہی کنٹینروں کی مدد سے سیل کردیا گیا ہے۔
پشاور میں ایس پی پشاور اسماعیل کھڑک کے مطابق فوج کو آن کال رکھا گیا ہے اور سکیورٹی کے لیے ساڑھے چار ہزار سے زائد اہلکار تعینات ہیں۔
لاہور میں مجالس اور ماتمی جلوسوں کی نگرانی کے لیے 16 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ منتظمین نے نجی اداروں سے بھی محافظوں کی خدمات حاصل کی ہیں۔
اسلام آباد میں بھی دس محرم الحرام کو ڈبل سواری پر پابندی ہے جبکہ جلوسوں میں شناختی کارڈ لے کر چلنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
سکیورٹی کے انتظامات میں مجالس اور ماتمی جلوسوں میں سکیورٹی کا پہلا حصار اسکاؤٹس کا ہوتا ہے، جو مجالس کے اندر اور باہر اور جلوس میں سب سے آگے ہوتے ہیں۔







