پاکستان کے مختلف شہروں میں محرم کے دوران سکیورٹی انتظامات
،تصویر کا کیپشنپاکستان میں گذشتہ کئی سالوں سے محرم کے دس روز یعنی عشرہ محرم کے لیے غیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے جاتے ہیں۔ کراچی میں بدھ کو دو امام بارگاہوں پر بم حملے کیے گئے تھے، جس میں 15 کے قریب افراد زخمی ہوگئے تھے۔
،تصویر کا کیپشنمجالس اور ماتمی جلوسوں میں سکیورٹی کا پہلا حصار سکاؤٹس کا ہوتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنلاہور میں مجالس اور ماتمی جلوسوں کی نگرانی کے لیے 16 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات ہیں جبکہ منتظمین نے نجی اداروں سے بھی محافظوں کی خدمات حاصل کی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنوفاقی دار الحکومت اسلام آباد میں بھی دس محرم الحرام کو انتظامیہ نے فول پروف سکیورٹی اقدامات کرنے کے دعوے کیے ہیں۔ یہاں بھی ڈبل سواری پر پابندی ہے جب کہ جلوسوں میں شناختی کارڈ لے کر چلنا لازمی ہے۔
،تصویر کا کیپشنماتمی جلوسوں کی فضائی نگرانی کے لیے اسلام آباد کی فضا میں ہیلی کاپٹر بھی نظر آ رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنپشاور کے آل سینٹس چرچ کے مینار پر کھڑا پولیس اہلکار علاقے کے نگرانی کر رہا ہے۔ پشاور شہر کا اندرونی علاقہ سیل کیا گیا ہے، اس کے علاوہ کیمرے اور جیمرز نصب کیے گئے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنکوئٹہ میں شیعہ ہزار کمیونٹی گذشتہ چند سالوں سے مسلسل نشانے پر ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس سال غیر معمولی انتظامات کے ساتھ پہلی بار ماتمی جلوسوں کی ہیلی کاپٹروں سے فضائی اور کیمروں سے زمینی نگرانی کی جائےگی۔