محرم: اندرون پشاور شہر سیل، سکیورٹی کے سخت انتظامات

محرم الحرام میں اس مرتبہ بارود سونگھ کر نشاندہی کرنے والے کتے بھی جلوس کے ساتھ ہوں گے
،تصویر کا کیپشنمحرم الحرام میں اس مرتبہ بارود سونگھ کر نشاندہی کرنے والے کتے بھی جلوس کے ساتھ ہوں گے
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے اندرون شہر کو محرم کے پیشِ نظر مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے اور سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

شہر میں 30 سے زیادہ کیمرے ، مائن ڈیٹیکٹرز اور جیمرز نصب کیے گئے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں پشاور کے مضافات میں جنوب مغرب اور مغرب میں واقع چند علاقے زیادہ اہم ہیں جہاں سے شدت پسند کارروائی کر سکتے ہیں۔

<link type="page"><caption> پشاور: ہلاکتیں 42، ’مزید حملوں کا خطرہ ہے‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/09/130930_peshawar_bombing_death_toll_rises_rk.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> پشاور: سریع الحرکت فورس کے قیام کا فیصلہ</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/10/131001_peshawar_security_beefing_up_rk.shtml" platform="highweb"/></link>

سپرنٹنڈنٹ پولیس اسماعیل کھڑک نے بی بی سی کو بتایا کہ پشاور شہر میں ساڑھے چار ہزار سے پانچ ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ نیم فوجی دستوں اور فوج کو چوکس رہنے کا حکم دیا گیا ہے اور شہر کے مختلف مقامات پر 30 سے زیادہ کیمرے نصب کیے گئے ہیں جو مستقل بنیادوں پر رہیں گے۔

محرم میں اس مرتبہ بارود سونگھ کر نشاندہی کرنے والے کتے بھی جلوس کے ساتھ ہوں گے جبکہ شہر میں ایسے جدید آلات بھی جلوس کے ہمراہ ہوں گے جن سے بارودی مواد کی نشاندہی ہو سکے اور ریموٹ کنٹرول آلات کو جیم کیا جا سکے۔

خیبر پختونخوا میں چار اضلاع کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے جن میں پشاور کے علاوہ ڈیرہ اسماعیل خان ، ہنگو اور کوہاٹ شامل ہیں۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں انتہائی حساس مقامات اور ماتمی جلوسوں کے ہمراہ پولیس کے ساتھ فوج بھی تعینات ہوگی۔ شہر میں آٹھ محرم سے موٹر سائیکل چلانے پر مکمل پابندی عائد ہو گی۔

ہنگو شہر میں آج سے تمام تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے ہیں جب کہ شہر میں جلوس کے راستے سیل کر دیے گئے ہیں۔

حکام کے مطابق کالعدم تحریکِ طالبان کے سابق سربراہ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد اس مرتبہ مختلف شہروں میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔

تجزیہ کار اور دہشت گردی پر تحقیق کرنے والے پروفیسر ڈاکٹر خادم حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لیے ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ ساتھ یہ معلوم کیا جا سکے کہ نیٹ ورکنگ کے مراکز کہاں کہاں موجود ہیں اور پھر اس پر قابو پانے کے لیے دفاعی نظام کر بروقت بروئے کار لایا جا سکے۔

انھوں نے کہا کہ شہر میں قصہ خوانی بازار سے لے کر کوہاٹی گیٹ تک کے علاقے میں بڑی تعداد میں حملے ہوئے ہیں، تو لگتا ایسا ہے کہ یہاں ایسے لوگ موجود ہیں جو اس طرح کی کارروائیاں کرتے ہیں اس لیے شہر کے اندرون علاقوں میں گھر گھر کا ڈیٹا حاصل کرنا ضروری ہے۔

پشاور شہر میں پولیس نے بیشتر علاقوں میں گذشتہ ایک ماہ کے دوران سرچ آپریشن کیا ہے جہاں بڑی تعداد میں لوگوں کو حراست میں لیا گیا تھا اور بعض گھروں سے اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے ۔ اس سرچ آپریشن میں پولیس کے ساتھ فرنٹیئر کور کے اہلکار بھی موجود تھے۔