گرم سرد پاک امریکہ تعلقات

ویسے تو امریکہ اور پاکستان کے قریبی تعلقات کی تاریخ پاکستان کے قیام میں آنے سے ہی شروع ہو جاتی ہے تاہم حالیہ تناظر میں پاکستان اور امریکہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتحادی ہیں۔
اس عرصے میں اس رشتے میں کئی اتار چڑھاؤ آئے۔ افغانستان سے سویت یونین کے انخلا اور 1998 میں پاکستان کے جوہری تجربوں کے بعد پاکستان امریکہ تعلقات میں جو تعطل آیا تھا وہ افغانستان پر 2001 میں امریکی حملے کے بعد بحال ہو گیا تھا۔
تاہم اس رشتے میں تناؤ اور بے اعتباری برقرار رہی۔ تعلقات کا بدترین مرحلہ 2011 میں اس وقت شروع ہوا جب لاہور میں سی آئی اے کی ایک ٹھیکے دار کمپنی کے ملازم ریمنڈ ڈیوس نے ایک پاکستانی خفیہ ایجنسی کے دو اہلکاروں کو ہلاک کر دیا۔ سلالہ چوکی پر نیٹو افواج کا حملہ، اسامہ بن لادن کا ایبٹ آباد میں پکڑے جانا، نیٹو رسد کی معطلی اور شمسی ایئر بیس خالی کرایا جانا سب ایک دوسرے پر کیے گئے واروں کی کڑیاں ہیں۔ اور پھر ایک معاملہ میمو گیٹ کا بھی سامنے آیا۔

’پاک امریکہ سٹریٹیجک ڈائیلاگ کے بحالی کی کوشش‘تاہم کچھ ہی عرصے میں دونوں ممالک کی قیادت کو احساس ہونے لگا کہ بین الاقوامی امور میں اہداف کی مماثلت انہیں زیادہ دیر دور رہنے نہیں دے گی۔ 2014 میں امریکی فوجوں کے افغانستان سے انخلا اور افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں پاکستانی اہمیت ایک بار پھر دونوں ممالک کو قریب لے آئی۔
سابق وزرائے خارجہ ہلیری کلنٹن اور حنا ربانی کھر کے درمیان متعدد ملاقاتوں سے تعلقات میں بہتری آئی۔رچرڈ ہالبروک نے بھی پاکستانی موقف کو واشنگٹن میں اجاگر کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مئی 2012 میں امریکی شہر شکاگو میں نیٹو کے سربراہی اجلاس میں صدر آصف علی زرداری صدر اوباما سے رسمی ملاقات تو نہیں کر سکے تاہم صدر زرداری، صدر حامد کرزئی اور صدر اوباما نے تبادلہِ خیال ضرور کیا۔
سٹریجک ڈائیلاگ

دونوں ممالک کے درمیان مارچ 2010 میں امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں ’سٹریجک ڈائیلاگ‘ شروع ہوا۔ یہ پہلا موقع تھا جب دونوں ممالک کی جانب سے سیاسی اور عسکری قیادت شامل تھی۔ فوجی صدر پرویز مشرف کے دورِ اقتدار کے بعد پہلی بار امریکہ سے بات چیت کی کمان سیاستدانوں کے پاس آئی۔
ان مذاکرات میں امریکہ کا مقصد افغانستان سے نیٹو افواج کے انخلا میں پاکستانی مدد کو یقینی بنانا تھا جبکہ پاکستان کی نظر معاشی امداد اور سول جوہری معاہدے پر تھی۔ ان مذاکرات میں معیشت، توانائی، سائنس اور ٹیکنالوجی سمیت کئی شعبوں میں تعاون پر بات چیت کی گئی۔ اگرچہ امریکہ نے پاکستان کے اہم مطالبات منظور نہیں کیے تاہم سویلین سیکٹر کو آئندہ پانچ سال میں ڈیڑھ ارب ڈالر دینے اور پاکستان فوج کے ایک ارب ڈالر کے بقایاجات کی جلد ادائیگی پر اتفاق ہوا۔
2011 کی کشیدگی کے بعد 2012 میں دونوں ممالک کے درمیان ایک بار پھر بات چیت کا عمل بحال ہوا تاہم اس بار یہ ڈائیلاگ اس قدر جامع نہ تھا۔
پاکستان نے نیٹو رسد بحال کی اور دہشت گردی پر تعاون کے لیے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے گئے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اب پاکستان اور امریکہ کے تعلقات زیادہ شفاف ہوں گے اور مشرف دور کے ڈھکے چھپے معاہدے اب نہیں چلیں گے۔
2012 اور 2013 میں بھی دونوں ممالک کے مذاکرات کار متعدد بار مل چکے ہیں تاہم ڈرون حملوں جیسے مسائل کی وجہ سے یہ مذاکرات زیادہ کار آمد ثابت نہیں ہو سکے ہیں۔

بارہا مذاکرات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے لے کر افغان طالبان کے اہم رہنماؤں کی رہائی تک، سب معاملات پر بات چیت کی جا چکی ہے تاہم عملی پیش رفت بہت تھوڑی ہے۔ اکثر مبصرین کا کہنا ہے کہ 2011 میں تعلقات بگڑنے کے بعد سے دونوں ممالک کی کوشش ہے کہ کم از کم بات چیت کا عمل ہر صورت میں جاری رہے۔
امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے اگست 2013 میں اپنے دورہِ پاکستان میں وزیرِاعظم نواز شریف اور ان کے خصوصی مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز سے ملاقات کے بعد ایک بار پھر سٹریجک ڈائیلاگ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کو اپنی سرزمین میں موجود ’تمام‘ شدت پسندوں کی پناہ گاہوں کو ختم کرنا ہوگا۔
اپنے اسی دورے میں پاکستان کے سرکاری ٹی وی چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جان کیری نے کہا تھا کہ پاکستان میں ڈرون حملے جلد ختم کیے جا سکتے ہیں۔ اسلام آباد میں اس بیان کا خیر مقدم کیا گیا تاہم امریکی وزیرِ خارجہ کے مشیران اور دفترِ خارجہ نے اس بیان کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔
گذشتہ ماہ جان کیری کے اس اعلان کو عملی جامع پہنانے کے لیے پاکستان میں امریکی سفیر رچرڈ اولسن نے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان سے ملاقات بھی کی تھی۔ اس موقع پر وزارتِ داخلہ کے ذرائع نے میّڈیا کو بتایا تھا کہ پاکستان امریکہ سٹریجک ڈائیلاگ اکتوبر 2013 سے جنوری 2014 تک جاری رہیں گے اور جنوری میں وزیرِاعظم پاکستان کے خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز اور امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری کے درمیان ہونے والی ملاقات انتہائی اہم ہوگی۔







