پاکستان اور روس کے پہلے سٹرٹیجک مذاکرات

پاکستان اور روس کے درمیان اقتصادی اور دفاعی تعلقات کو فروغ دینے سمیت متعدد معاملات پر پہلے سٹرٹیجک مذاکرات ماسکو میں شروع ہو رہے ہیں۔

پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق بدھ کو شروع ہونے والے مذاکرات کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور دفاعی تعلقات کے فروغ سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔

اس سے پہلے رواں ماہ روس کی فوج کے سربراہ نے پاکستان کا دورہ کیا تھا اور ملک کی اعلیٰ فوجی قیادت سے ملاقات میں خطے کی سکیورٹی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا تھا۔

<link type="page"><caption> روس سے نیا پیار</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/09/120910_pak_russia_analysis_tim.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> روسی صدر کی درخواست پر کانفرنس ملتوی</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/09/120927_four_nation_conf_rh.shtml" platform="highweb"/></link>

پاکستان کے وفد کی قیادت سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی کر رہے ہیں اور ان مذاکرات میں فریقین تخفیف اسلحہ، انسداد دہشت گردی، منشیات کی سمگلنگ اور عالمی سلامتی کے معاملات پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔

دونوں ممالک کے درمیان سٹریٹیجک بات چیت ایک ایسے وقت ہو رہی ہے جب افغانستان میں تعینات بین الاقوامی افواج کا انخلاء آئندہ سال سے ہو رہا ہے۔

اس تناظر میں پاکستان کے ہمسایہ ملک افغانستان سے تعلقات میں تناؤ پایا جاتا ہے اور اس کے اپنے پرانے اتحادی اور افغان جنگ میں اس وقت کے سویت یونین کے خلاف اتحادی ملک امریکہ سے تعلقات بھی کچھ زیادہ خوشگوار نہیں ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات سرد جنگ کے باعث سرد مہری کا شکار رہے لیکن اسّی کی دہائی میں افغان جنگ کے بعد سے دو طرفہ بات چیت نہ ہونے کے برابر رہی۔ لیکن گزشتہ کچھ عرصے میں اس میں تبدیلی کے واضح اشارے اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کو وسعت دینے کی کوشش کہا جا رہا ہے۔

گزشتہ سال پاکستان کی اعلیٰ سول اور فوجی قیادت نے روس کا دورہ کیا تھا جن میں صدر مملکت آصف علی زرداری، پاکستان فضائیہ کے سربراہ ائر چیف مارشل طاہر رفیق بٹ اور پاکستان فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بھی ماسکو کا دورہ کیا تھا اور یہ کسی پاکستانی فوجی سربراہ کا پہلا دورۂ ماسکو تھا۔

ان ہی دنوں میں روس کے اعلیٰ وفد نے پاکستان کا دورہ کیا تھا اور سرمایہ کاری سمیت متعدد شعبوں میں تعاون کے فروغ میں دلچسپی کا اظہار کیا تھا۔

دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کے تناظر میں گزشتہ سال اکتوبر میں اسلام آباد میں چار ملکی سربراہی کانفرنس منعقد ہونا تھی اور اس میں روس کےصدر ولادیمیر پیوتن نے بھی شرکت کرنا تھی تاہم روسی صدر کی درخواست پر یہ کانفرس ملتوی کر دی گئی تھی۔

لیکن اس کے چند روز بھی روسی وزیرِ خارجہ نے پاکستان کا دورہ کیا تھا اور انہوں نے اپنی پاکستان ہم منصب حنا ربانی کھر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرس میں کہا تھا کہ روس کسی بھی ملک کی خومختاری کے خلاف ہر اقدام کی مذمت کرتا ہے اور دونوں ممالک کا بین الاقوامی مسائل بارے موقف یکساں ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے اقتدار سنبھالنے کے بعد قوم سے اپنے خطاب میں ملک کی خارجہ پالیسی میں جرات مندانہ نظرثانی پر ضرور دیا تھا۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کے روس کے ساتھ تعلقات میں بہتری ملک کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ ہے جس میں روس کے علاوہ ہمسایہ ملک چین کے ساتھ سٹریٹیجک تعلقات میں غیر معمولی گرمجوشی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔

اس میں بلوچستان میں واقع خطے کی اہم بندرگاہ گوادر کا کنٹرول چین کی کمپنی کو دینا اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی راہداری کا منصوبہ اس کی اہم علامت تصور کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کا منصوبہ شروع کرنے کے فیصلے کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔