’پاکستان کی تشویش بالکل بے بنیاد بھی نہیں‘

- مصنف, برجیش اُپادھیائے
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، واشنگٹن
پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی جیمز ڈوبنز نے کہا ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں بھارت کی موجودگی پر اپنی تشويش کو بڑھا چڑھا كر بیان کیا ہے لیکن یہ مکمل طور پر بے بنیاد بھی نہیں ہے۔
پاکستان نے افغانستان کے سرحدی شہروں قندھار اور جلال آباد میں ہندوستانی قونصل خانوں کی موجودگی پر کئی بار سوال اٹھایا ہے۔
پاکستان کا الزام ہے کہ ان سفارتخانوں کا استعمال اس کے صوبہ بلوچستان اور دوسرے سرحدی علاقوں میں بدامنی اور تشدد پھیلانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔تاہم بھارت اس الزام کی سختی سے تردید کرتا رہا ہے۔
<link type="page"><caption> افغانستان کو ہتھیاروں سے زیادہ پاکستانی تعاون درکار</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2013/05/130521_karzai_india_tour_expectations_zs.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ’انڈیا افغانستان میں کیا کر رہا ہے‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/multimedia/2012/11/121112_azmi_india_afghanistan_ra.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> طالبان کی طرف سے بھارت کی ’تعریف‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2012/06/120617_taleban_india_praise_as.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> پاکستان افغانستان کا جڑواں بھائی جبکہ بھارت بڑا دوست</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2011/10/111005_karzai_assures_pak_rwa.shtml" platform="highweb"/></link>
یہ پہلی بار ہے جب کسی امریکی اہلکار نے ریکارڈ پر جا کر بھارت کے کردار پر انگلی اٹھائی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
افغانستان اور پاکستان کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی جیمز ڈوبنز نے بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان سے بھاری تعداد میں شدت پسند افغانستان میں دراندازی کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا ’لیکن ہمیں معلوم ہے کہ ان کے مخالف کچھ شدت پسند دوسری طرف سے بھی پاکستان میں گھستے ہیں۔ تو پاکستان کی تشويش بے بنیاد نہیں ہے لیکن ہماری نظروں میں اس کو بڑھا چڑھا كر بیان کیا جا رہا ہے۔‘
ڈوبنز کا کہنا تھا کہ قندھار اور جلال آباد میں ہندوستانیوں کی ایک قلیل تعداد موجود ہے اور افغانستان کے ساتھ بھارت کے معاشي اور تہذیبی رشتے کو دیکھتے ہوئے وہاں قونصل خانوں کا کھلنا غلط نہیں لگتا۔
بھارت نے افغانستان کی ترقی کے لیے دو ارب ڈالر سے بھی زیادہ رقم خرچ کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ سفارتخانے بھی انہی منصوبوں کو مکمل کرنے کے لیے بنے ہیں۔
ڈوبنز گذشتہ ہفتے ہی افغانستان اور پاکستان کا دورہ کر کے واپس آئے ہیں۔
افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی کے معاملے پر انہوں نے کہا ہے کہ ’اگر کابل چاہے تبھی امریکہ وہاں سے پوری فوج ہٹائے گا۔‘
ان کا کہنا تھا ’افغانستان کو نیٹو فوج کی ضرورت ہے، افغانستان ان کی موجودگی چاہتا ہے اور ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ ہماری فوج وہاں رہے گی۔‘
جون میں صدر اوباما اور صدر کرزئی کے درمیان ایک تلخ ویڈیو كانفرنس کے بعد اس طرح کی قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ 2014 کے بعد امریکہ اپنی پوری فوج واپس بلا لے گا۔
ڈوبنز نے بی بی سی کو بتایا کہ افغانستان پر حملہ کرنے والے شدت پسندوں کی پاکستان میں موجودگی کے حوالے سے ان کی پاکستانی اہلکاروں سے طویل گفتگو ہوئی ہے۔
ان کا کہنا ہے ’جس آزادی کے ساتھ افغان شدت پسند پاکستان میں رہ کر اپنا کام کر رہے ہیں وہ تشويشناك ہے۔‘
امریکی ایلچی کا کہنا تھا کہ اس سرحد پار دراندازی کو روکنے کے لیے پاکستان، افغانستان اور امریکہ کو مل جل کر بات کرنی ہوگی۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ افغان طالبان کے ساتھ مذاكرات اگلے تین مہینوں میں شروع ہو جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ سنہ 2014 کے بعد افغانستان اور پاکستان کے مسائل کے حوالے سے بہت زیادہ امید نہیں کی جا سکتی لیکن اگر دونوں ملک مل کر کام کریں تو تمام مشکلات کا حل نکل سکتا ہے۔







