’پاک امریکہ سٹریٹیجک ڈائیلاگ کے بحالی کی کوشش‘

خیال رہے کہ مسلم لیگ کااقتدار میں آنے کے بعد یہ کسی بھی بڑے امریکی عہدے دار کا پہلا دورِ پاکستان ہو گا
،تصویر کا کیپشنخیال رہے کہ مسلم لیگ کااقتدار میں آنے کے بعد یہ کسی بھی بڑے امریکی عہدے دار کا پہلا دورِ پاکستان ہو گا

پاکستان امریکہ کے سیکرٹری خارجہ جان کیری کے اسلام آباد کے آئندہ دورے کے دوران پاک امریکہ سٹریٹیجک ڈائیلاگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کرے گا۔

ریڈیو پاکستان نے پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان اعزازاحمد چوہدری کے حوالے سے بتایا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سٹریٹیجک ڈائیلاگ کونومبر 2011 میں سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد بند کر دیا گیا تھا جسے دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

اعزازاحمد چوہدری نے کہا کہ پاک امریکہ سٹریٹیجک ڈائیلاگ کرنے کےلیے دونوں ممالک کے پانچ ورکنگ گروپس تھے۔ انھوں نے کہا کہ اگرجان کیری کے دورے کے دوران سٹریٹیجک ڈائیلاگ دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق ہو گیا تو وہ فوری طور پر ان ورکنگ گروپس کی ملاقاتیں کرائیں گے۔

پاکستان نےگزشتہ برس چھبیس نومبر کو سلالہ چیک پوسٹ پر امریکی ہیلی کاپٹرز کے حملے میں چوبیس فوجیوں کی ہلاکت کے بعد افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کو پاکستان کے راستے تیل اور دوسری رسد کی فراہمی روک دی تھی۔ اس کے علاوہ صوبہ بلوچستان میں امریکہ کے زیر استعمال شمسی ائر بیس کو خالی کرایا گیا تھا۔

خیال رہے کہ مسلم لیگ کااقتدار میں آنے کے بعد یہ کسی بھی بڑے امریکی عہدے دار کا پہلا دورِ پاکستان ہو گا۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق جان کیری کے دورۂ اسلام اباد کے موقع پر افغان میں قیام امن کے عمل کو آگے بڑھانے پر بھی بات چیت ہو گی۔

پاکستان افغانستان میں قیامِ امن کوششوں میں کردار ادا کرنے کی بات کرتا رہا ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کے خارجہ امور اور قومی سلامتی کے خصوصی مشیر سرتاج عزیز نے کابل کے اپنے حالیہ دورے کے دوران کہا تھا کہ اگر افغان رہنما چاہیں تو پاکستان افغانستان میں استحکام کے لیے افغان دھڑوں کے درمیان مذاکرات میں مدد دینے کے لیے تیار ہے۔

خبر رساں ایجنسی روئیٹرز کے مطابق سرتاج عزیز نے افغان وزیرِ خارجہ زلمے رسول سے ملاقات کے بعد کہا تھا ’پرامن اور مستحکم افغانستان پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے‘۔