’ایف سی مدد کے لیے نہیں مارنے آ رہی ہے‘

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، مشکے بلوچستان
بلوچستان کی علیحدگی کے لیے سرگرم تنظیم بلوچ نیشنل موومنٹ کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر منان بلوچ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ریاست اور فوج زلزلے میں امداد اور تعاون کے نام پر فنڈ بٹورنا اور سیاست کرنا چاہتی ہے اور وہ اس کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔
علیحدگی پسند رہنما ڈاکٹر اللہ نذر کے قریبی ساتھی منان بلوچ نے مشکے کے قریب بی بی سی اردو سے خصوصی بات چیت میں کہا کہ اس وقت وہ پاکستان کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں، اس لیے حکومت کی طرف سے کوئی مدد قبول نہیں کریں گے۔
STY’بین الاقوامی امدادی تنظیموں کا خیر مقدم کریں گے‘’بین الاقوامی امدادی تنظیموں کا خیر مقدم کریں گے‘بلوچستان میں زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں سرگرم ایک مسلح بلوچ تنظیم نے بین الاقوامی امدادی اداروں کو متاثرہ علاقوں میں خیر مقدم کرنے کا اعلان کیا ہے۔2013-09-25T18:13:38+05:002013-09-25T18:13:38+05:00PUBLISHEDurtopcat2
خیال رہے کہ بلوچستان میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان کی تقسیم فرنٹیئر کور کی نگرانی اور حفاظت میں کی جا رہی ہے، جس کی مزاحمت کار مخالفت کر رہے ہیں۔
روایتی دیہی انداز کے اس رہنما کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ’پاکستانی فوج چاہے ایف سی کی شکل میں کیوں نہ ہو، مدد کے لیے نہیں بلکہ انہیں مارنے کے لیے آ رہی ہے۔‘
منان بلوچ نے مشکے میں فائرنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ایف سی یہاں کوئی مدد نہیں کر رہی بلکہ گزشتہ دو روز سے شیلنگ کر رہی ہے اور ان کے لیے جو امداد آ رہی ہے اسے روکا جا رہا ہے۔‘
مقامی نوجوانوں میں مقبول ڈاکٹر منان بلوچ کا کہنا تھا کہ جو مقامی یا بین الاقوامی تنظیمیں یا ممالک بلوچ عوام کی مدد کرنا چاہتی ہیں وہ علیحدگی پسند تنظیموں کے ذریعے مدد کر سکتی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے دعوی کیا کہ مشکے اور آس پاس کے علاقوں میں جو امدادی کام ہو رہا ہے وہ بلوچ نیشنل موومنٹ، بلوچستان سٹوڈنٹس آرگنائزیشن اور دوسری علیحدگی پسند تنظیمیں کر رہی ہیں۔
ان کے مطابق ’ان کے علاوہ تھوڑی بہت کسی نے مدد کی ہے تو وہ ایدھی فاؤنڈیشن اور ہلالِ احمر ہیں جن سے بی این ایم کی جانب سے اپیل کی گئی تھی۔‘
منان بلوچ کے مطابق علیحدگی پسندوں کی جانب سے علاقے میں امدادی کام کرنے والی یا اس کی خواہشمند تنظیموں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی۔
’ہم اس وقت لڑ نہیں رہے اور کسی کو مار نہیں رہے، یہاں جو تنظیمیں آرہی ہیں ان کے خلاف نہ کوئی کارروائی کی ہے اور نہ ہی مارا ہے بلکہ ہم نے تو تمام تنظیموں کو دعوت دی ہے کہ وہ یہاں آکر کام کریں، لیکن اوپر سے آکر کوئی شیلنگ کرے یا زمین سے گولیاں برسائے تو یقیناً پھر ہم اپنا دفاع کریں گے۔‘
مشکے میں چند روز قبل نیشنل ڈزاسٹر مینمجنٹ اتھارٹی کے ایک ہیلی کاپٹر پر راکٹ سے حملے کی بھی خبریں سامنے آئی تھیں۔
ڈاکٹر منان بلوچ کا کہنا تھا کہ یہاں پر جتنے بھی ہیلی کاپٹر آئے ہیں، گولہ باری کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب انہیں کیا پتہ کہ وہ این ڈی ایم کا ہیلی کاپٹر تھا، فوج کا تھا یا وزیراعلیٰ کا۔
’جو ہیلی کاپٹر اس علاقے میں آیا اس نے شیلنگ کی ہے، اب وہ خود جواب دیں کہ انہوں نے شیلنگ کیوں کی، اگر وہ ریلیف کے لیے آ رہے ہیں تو پھر مارتے کیوں ہیں یا شیلنگ کیوں کرتے ہیں۔‘







