’امداد نہیں دیتے تو نہ دیں، مارے تو نہیں‘

    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، آواران

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں حالیہ دنوں میں آنے والے زلزلے سے متاثرہ افراد امداد کی کمی کا شکار ہیں اور امداد کی اس کمی کے باعث بہت سے لوگ کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

اس زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر علاقے آواران میں جمعہ کو لوگوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا جس کے نتیجے میں یہ ناخوشگوار واقعہ پیش آیا کہ امداد کے منتظر لوگوں نے خیموں سے بھرے ہوئے دو ٹرک لوٹ لیے۔

آواران کے ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں جیسے ہی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے بھیجے ہوئے ٹرک پہنچے تو متاثرہ افراد بھی ان سے امدادی سامان وصول کرنے کی امید میں اکٹھا ہونا شروع ہوگئے۔

ابھی یہ عمل جاری تھا کہ ایک مٹی کا طوفان اٹھا اور اسی دوران اچانک فائرنگ کی آوازیں آنے لگیں مگر دُھول کے باعث سمجھ نہیں آئی کہ کیا ہو رہا ہے۔

جب دھول ہٹی تو نظر آیا کہ لوگ دو ٹرکوں کے اوپر چڑھے ہوئے ہیں اور خیمے اتار رہے ہیں، جبکہ فائرنگ کرنے والے لیویز کے اہلکار پر لوگ غصے کا اظہار کرتے نظر آئے ۔

خیموں سے بھرے دونوں ٹرک لمحوں میں خالی ہوگئے، جس کے بعد لوگ تیسرے ٹرک کی طرف بڑھے لیکن الخدمت کے رضاکاروں نے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا۔

کچھ دیر میں پولیس اہلکار پہنچ گئے جنہوں نے ڈی سی آفس کے داخلی راستے کو بند کردیا اور لوگوں کو ڈنڈے دکھانے اور مارنے لگے۔

اس گرما گرمی میں کچھ لوگوں کو چوٹیں آئیں ان میں عبدالواحد بھی شامل تھے، انہوں نے انتظامیہ کے رویے کو توہین آمیز قرار دیا۔

’ گھر اللہ نے گرایا ہے ، اب چاہے دوبارہ گر جائے خیمے نہیں چاہئییں، امداد نہیں دیتے تو نہ دیں مارے تو نہیں، گالی کیوں دی۔ ہم بلوچ یہ برداشت نہیں کر سکتے۔ ‘

ایک شخص نے اپنی زخمی ٹانگ دکھاتے ، زیب تن کپڑے اور پیروں میں پہنی ہوئی پرانی چپلیں دکھاتے ہوئے ہم سے سوال کیا کہ کیا وہ غریب نہیں؟۔ ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت تو لوگوں کی مدد کرنا چاہتی ہے لیکن یہ بڑے صاحب ان کی امداد ہضم کرنا چاہتے ہیں۔‘

اس کارروائی سے چند گھنٹے قبل ہی ایک فرلانگ کے فاصلے پر وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار، پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف، سندھ کے وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ اور بلوچستان کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک متاثرین کی مدد کے لیے ایک اجلاس کر کے گئے تھے۔

اسٹنٹ کمشنر ممتاز احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے مالار اور دوسرے علاقوں کی طرف امدادی سامان بھیجا ہے۔ ان کے مطابق وہ دور دراز علاقوں کو اولیت دے رہے ہیں اور ’یہ جو لوٹ مار کر رہے ہیں شہر کے لوگ ہیں جن سے صبر نہیں ہو رہا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’متاثرہ علاقے دور اور راستے کچے ہیں اس وجہ سے امداد میں تاخیر ہوئی ہے، اس کے علاوہ لوگ امن امان کی وجہ سے ڈرے ہوئے ہیں لیکن یہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ بھی نہیں ہے۔‘

زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں غیر سرکاری اداروں کی بھی سرگرمیاں محدود ہیں۔ ترتیج گاؤں کے رہائشی ڈاکٹر ناصر نے شکوہ کیا کہ میڈیا کا کردار بھی مددگار نہیں ٹی وی چینل ایسی رپورٹیں دے رہے ہیں جس سے ایسا لگتا ہے کہ امدادی سامان لانے والی ٹیموں پر حملے ہو رہے ہیں۔

بعض غیر سرکاری تنظیموں کا کہنا ہے کہ انہیں ایف سی چوکیوں پر تنگ کر رہی ہے۔ ایف سی کا کہنا ہے کہ سامان ان کے حوالے کیا جائے کیونکہ اس کی تقسیم صرف وہ کریں گے۔ گشکور ، مشکے کی گاؤں میں ابھی تک غیر سرکاری تنظیموں کی رسائی نہیں ہوسکی ہے، جہاں نقصان دوگنا ہے۔

گشکور سے واپس آنے والے رضاکار محراب بلوچ کا کہنا ہے کہ متاثرہ گاؤں میں کوئی اپنے لاپتہ رشتہ داروں کی میتیں تلاش کر رہا ہے، کوئی بچا ہوا سامان نکال رہا تاکہ دوبار گھروں کی تعمیر ہو سکے۔ کسی کو دبے ہوئے راشن کی تلاش تھی۔