کراچی: امن کمیٹی کے اہم رہنما ظفر بلوچ ہلاک

پاکستان کے شہر کراچی میں فائرنگ کے ایک واقعے میں لیاری امن کمیٹی کے اہم رہنما ظفر بلوچ اور ان کے ایک محافظ کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔
یہ واقعہ لیاری کے بزنجو چوک پر بدھ کی شب پیش آیا۔
کلا کوٹ پولیس کے مطابق ظفر بلوچ موٹر سائیکل پر اپنے بھانجے حسنین سمیت گل محمد لین سے غریب شاہ مزار کی طرف جا رہے تھے کہ چار موٹر سائیکل سوار مسلح افراد نے ان پر فائرنگ کی جس میں وہ اور ان کا محافظ ہلاک اور بھانجا حسنین زخمی ہوگیا۔
ظفر بلوچ کو جہاں ہلاک کیا گیا ہے، اس جگہ سے چند قدم کے فاصلے پر گذشتہ ماہ ایک فٹبال میچ کے اختتام پر بم دھماکہ ہوا تھا، جس میں گیارہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
اس دھماکے میں رکن صوبائی اسمبلی جاوید ناگوری کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ بعد میں تفتیش کے دوران پولیس نے حملے کا شبہ ایک شدت پسند گروہ پر ظاہر کیا تھا۔
ظفر بلوچ پاکستان پیپلز پارٹی کے پرانے کارکن تھے۔ وہ 2002 کے بلدیاتی انتخابات میں یونین کونسلر منتخب ہوئے، اس کے بعد پیپلز پارٹی ضلع جنوبی کے سیکریٹری جنرل کے عہدے پر فائز رہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ظفر بلوچ 2008 کے انتخابات میں پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم پر پارٹی سے بغاوت کرنے والے دھڑے میں شامل ہو گئے اور جب عبدالرحمان بلوچ عرف رحمان ڈکیت نے پیپلز امن کمیٹی قائم کی تو ظفر بلوچ اس کے ترجمان کے طور پر سامنے آئے۔
لیاری سے نکلنے والے بہت سے جلوسوں اور جلسوں کی قیادت ظفر بلوچ کرتے تھے۔ ان پر اس سے پہلے بھی دستی بم سے حملہ کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے ان کی ٹانگ شدید متاثر ہوئی تھی۔
پیپلز امن کمیٹی کی بنیاد رکھنے والے عبدالرحمان بلوچ ایک پولیس مقابلے میں مارے گئے، حبیب جان بلوچ کو قتل اور اغوا کے مقدمات کے باعث ملک چھوڑنا پڑا جبکہ تیسرے اہم رہنما ظفر بلوچ بدھ کو حملے میں ہلاک ہوگئے۔
اس سے پہلے لیاری میں تین دیگر مشتبہ افراد بھی ہلاک ہوئے۔ رینجرز کے ترجمان کا دعویٰ ہے کہ ہلاک ہونے والوں کا تعلق لیاری گینگ وار کے جبار گروپ سے ہے۔ رینجرز اور پولیس نے جب اس سلسلے میں چھاپا مارا تھا تو انہوں نے فائرنگ کی اور جوابی فائرنگ میں وہ مارے گئے۔







