کراچی: رینجرز کے آپریشن جاری، 19 گرفتار

اس آپریشن کے دوران رینجرز نے شہر کے تقریباً تمام ہی علاقوں میں چھاپے مارے ہیں
،تصویر کا کیپشناس آپریشن کے دوران رینجرز نے شہر کے تقریباً تمام ہی علاقوں میں چھاپے مارے ہیں

کراچی میں رینجرز کے ’ٹارگٹڈ‘ آپریشنز میں مزید 19 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جب کہ لاہور میں پولیس نے لیاری گینگ وار کے ایک ملزم کی گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے۔

رینجرز کے ترجمان کے مطابق آپریشن کے دوران منگل کو شہر کے مختلف مقامات پر چھاپے مارے گئے جہاں سے مشتبہ افراد کی گرفتاریوں کے علاوہ اسلحہ بھی برآمد کیا گیا۔

ترجمان کے مطابق یہ گرفتاریاں چنیسرگوٹھ، شاہ فیصل کالونی، گرین ٹاؤن، رشید آباد، دادؤ شورا گوٹھ، تیسر ٹاؤن، نارتھ کراچی، نارتھ ناظم آباد میں ٹارگٹڈ ایکشن کے دوران کی گئیں۔

رینجرز حکام کے مطابق اس کے علاوہ سی ویو، واٹر پمپ سمیت شہر کے دیگر علاقوں میں مشکوک افراد کی تلاش کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

دوسری جانب لاہور میں پولیس نے کراچی سے تعلق رکھنے والے تین مبینہ ملزمان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

پولیس کے مطابق ان ملزمان میں امین بلیدی نامی شخص بھی شامل ہے جو لیاری گینگ وار کا اہم کردار بتایا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ رواں ماہ ہی وفاقی کابینہ نے کراچی میں رینجرز کو کارروائی میں کلیدی کردار دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

اس آپریشن کے دوران رینجرز نے شہر کے تقریباً تمام ہی علاقوں میں چھاپے مارے ہیں جن کے دوران رینجرز کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق اب تک چار سو مشتبہ افراد گرفتار کیے گئے ہیں لیکن ان گرفتار شدگان میں کالعدم تنظیموں یا جرائم کی دنیا سے وابستہ کوئی بڑا نام شامل نہیں۔

رینجرز نے کارروائی کے دوران لیاری میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی شاہجہان بلوچ اور پیپلز امن کمیٹی کے رہنما عزیر بلوچ کے گھروں پر بھی چھاپے مارے جبکہ ایم کیو ایم کے سابق رکن صوبائی اسمبلی ندیم ہاشمی کو بھی دو سپاہیوں کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

ان کی گرفتاری کے بعد متحدہ قومی موومنٹ نے اس آپریشن کا ٹارگٹ خود کو قرار دی اور الزام لگایا کہ ٹارگٹڈ آپریشن اردو آبادی کے علاقوں تک محدود ہے اور کارروائیوں کے دوران اب تک ان کے ڈیڑھ سو سے زائد کارکن گرفتار ہو چکے ہیں۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن کا آغاز تو بھتہ خوروں، کالعدم تنظیموں، ٹارگٹ کلرز اور اغوا کاروں کے خلاف ہوا تھا لیکن ایک ہفتے بعد ہی اس پر سیاسی رنگ چڑھ گیا ہے۔