’کشیدگی کم کرنے کے ممکنہ اقدامات پر غور‘

کشمیر کو تقیسم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کے واقعات کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں
،تصویر کا کیپشنکشمیر کو تقیسم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کے واقعات کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں

پاکستان میں بھارت کے سفیر ٹی سی اے رگھووان نے قومی سلامتی کے پاکستانی مشیر سرتاج عزیز کے ساتھ ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کیا ہے۔

دفتر خارجہ کے حکام کا کہنا ہے پاکستان اور بھارتی اعلیٰ افسران کے درمیان یہ ملاقات ویسے تو رسمی تھی لیکن اس دوران بعض اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

دفتر خارجہ کے ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے مشیر سرتاج عزیز اور بھارت کے ہائی کمشنر رگھووان نے رواں ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر اپنے ملکوں کے وزرائے اعظم کے درمیان ملاقات کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

نامہ نگار آصف فاروقی کے مطابق پاکستان کے مقابلے میں بھارتی حکام اس ملاقات کے بارے میں زیادہ پرجوش نہیں تھے لیکن سفارتی مبصرین کا کہنا ہے کہ آج کی ملاقات ظاہر کرتی ہے کہ بھارتی حکومت بھی اب اس ملاقات کے حق میں ہے۔

حالیہ دنوں میں لائن آف کنٹرول کی متنازعہ سرحد پر فائرنگ کے تبادلے سے پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد تو بھارت نے اس ملاقات کے امکانات کو مسترد کر دیا تھا۔

دفتر خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی سفیر نے پاکستانی وزیراعظم کے مشیر کے ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی کم کرنے کے مختلف طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

دوسری جانب پاکستانی بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے منگل کو لائن آف کنٹرول کے ان علاقوں کا دورہ کیا جہاں گزشتہ دنوں بھارتی فوج کی مبینہ فائرنگ سے پاکستانی فوج کے بعض اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

بری فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے کے بیان کے مطابق جنرل کیانی کو بتایا گیا کہ اس علاقے میں پاکستانی فوج سکیورٹی کے حالات کے باعث’ہائی الرٹ‘ پر ہے۔

حالیہ دنوں میں دونوں ملکوں نے ایک دوسرے پر لائن آف کنٹرول پر بلااشتعال فائرنگ کرنے کا الزام بھی لگایا اور اپنی ناراضگی ظاہر کرنے کے لیے دونوں حکومتوں نے ایک دوسرے کے سفارتکاروں کو بھی طلب کیا۔