ایک اور فوجی ہلاک، بھارتی ہائی کمشنر طلب

پاکستان اور بھارت کے درمیان ایل او سی کے معاملے پر کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے
،تصویر کا کیپشنپاکستان اور بھارت کے درمیان ایل او سی کے معاملے پر کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے

پاکستانی افواج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے مطابق لائن آف کنٹرول کے رکھ چکری سیکٹر میں بھارتی فوج کی مبینہ بلا اشتعال فائرنگ سے ایک پاکستانی فوجی حبیب ہلاک ہو گیا ہے۔

فوج کے بیان کے مطابق بھارتی فوج نے فائرنگ جمعرات کو صبح گیارہ بج کر پچاس منٹ پر کی۔اس سے پہلے بدھ کی رات ایل او سی پر فائرنگ کے نتیجے میں پاکستانی فوج کے ایک کپتان ہلاک ہو گئے تھے۔

<link type="page"><caption> ’بھارت تحمل، باہمی مفاہمت کی پالیسی پر عمل کرے‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/multimedia/2013/08/130822_aizaz_chaudhary_tim.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ایل او سی پر فائرنگ سے پاکستانی کپتان ہلاک</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/08/130816_loc_firing_india_pak_rh.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> ایل او سی فائرنگ، بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کی طلبی</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/08/130812_pak_india_loc_firing_rk.shtml" platform="highweb"/></link>

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان اعزاز چوہدری نے کہا ہے کہ بدھ کی صبح بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر بِلااشتعال فائرنگ کے بعد سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی نے بھارتی ہائی کمشنر راگھ ون کو طلب کر سخت پیغام دیا ہے۔

اگست کے مہینے کے دوران بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دوسری بار دفترِ خارجہ طلب کیا گیا ہے
،تصویر کا کیپشناگست کے مہینے کے دوران بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دوسری بار دفترِ خارجہ طلب کیا گیا ہے

ترجمان کے مطابق بھارتی ہائی کمشنر راگھ ون سے کہا گیا ہے کہ بھارت سیز فائر کی خلاف ورزیوں کو فوراً بند کر ے کیونکہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان امن کے عمل کو نقصان پہنچ رہا ہےـ

اس سے پہلے پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ پاکستان بھارت سے توقع کرتا ہے کہ وہ پاکستان کی طرح تحمل اور باہمی مفاہمت کی پالیسی پر عمل کرے۔

اس سے قبل بی بی سی کی صبا اعتزاز سے بات کرتے ہوئے اعزاز چوہدری نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر اس طرح کی خلاف ورزیاں دونوں ممالک کے درمیان امن کے عمل کو روک رہی ہیں۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کے اس واقعہ کی پر زور مذمت کی اور بتایا کہ بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفترِ خارجہ نے طلب کر کے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اسی مہینے کے دوران بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دوسری بار دفترِ خارجہ طلب کر کے احتجاج کیا گیا ہے اور پاکستانی حکومت کی تشویش سے آگاہ کیا گیا ہے۔

2003 کے ایل او سی پر جنگ بندی کے معاہدے کے بعد گزشتہ ماہ میں ہی لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کے 35 مبینہ واقعات پیش آ چکے ہیں۔

ان واقعات میں دونوں ممالک ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے رہے ہیں۔

جمعرات کو پاکستانی پارلیمان کے ایوانِ زیریں یعنی قومی اسمبلی میں متفقہ قرارداد پاس کی گئی جس میں بھارت کی طرف سے ایل او سی کی خلاف ورزیوں کی پر زور مزمت کی گئی ہے۔

دفترِ خارجہ نے کہا کے بھارتی قیادت کو پاکستانی قیادت کے امن کے نظریے کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی متواتر فائرنگ سے حکومت پاکستان کو بہت تشویش ہے۔