’بھارت کے ساتھ ہتھیاروں کی دوڑ بند ہو جانی چاہیے‘

وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے کہا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان ہتھیاروں کی دوڑ بند ہو جانی چاہیے اور اگر آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو اس حوالے سے پیش رفت ہونی چاہیے۔

یہ بات انہوں نے برطانوی اخبار دی ٹیلیگراف کو ایک انٹرویو میں کہی۔

انہوں نے کہا کہ ترقی کے لیے ہتھیاروں کی دوڑ ختم کرنا ضروری ہے۔

’ترقی ہو گی اور ترقی ہونی چاہیے۔ اگر ہم آگے برھنا چاہتے ہیں تو اس حوالے سے پیش رفت ہونی چاہیے۔‘

وزیر اعظم نے کہا کہ ان کی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز نے انتخابی مہم کے دوران بھارت مخالف نعروں کا استعمال نہیں کیا۔

’ہم نے بھارت مخالف نعروں کا استعمال نہیں کیا۔ ہم اس پر یقین نہیں رکھتے۔ دس، بیس تیس سال قبل اس قسم کے نعرے لگائے جاتے تھے لیکن اب نہیں۔ اصل میں میں نے انتخابات سے قبل بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات کی بات کی تھی۔‘

واضح رہے کہ اگست میں لائن آف کنٹرول پر دونوں ممالک کی فوجوں کے درمیان فائرنگ کے واقعات میں شدت آئی ہے۔

2003 کے ایل او سی پر جنگ بندی کے معاہدے کے بعد گزشتہ ماہ میں ہی لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کے 35 واقعات پیش آ چکے ہیں۔

ان واقعات میں دونوں ممالک ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے رہے ہیں۔

برطانوی اخبار کو انٹرویو میں نواز شریف نے کہا کہ انہوں نے پوزیشن واضح کی تھی کہ اگر حکومت بنتی ہے تو روابط کو وہیں سے آگے لے کر چلیں گے جہاں سے 1999 میں چھوڑے تھے۔

’ہم بھارت کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھائیں گے، ان کے ساتھ بیٹھیں گے اور کشمیر سمیت تمام مسائل کا حل پرامن طریقے سے نکالیں گے۔‘

طالبان سے بات چیت

وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے کہا ہے کہ طالبان کے مذاکرات کی آپشن پر غور کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اگر وہ بھی اس بارے میں سنجیدہ ہیں۔

ملک میں دہشت گردی کے حوالے سے وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے کہا کہ نئی سکیورٹی حکمت علمی اگلے چند ہفتوں میں تیار کر لی جائے گی۔ اس نئی پالیسی کا محور طاقت کے استعمال کی بجائے طالبان سے مذاکرات پر ہوگا۔

’یقیناً ہم ایک دوسرے ہی سے لڑ رہے ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ مذاکرات کی آپشن پر غور کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اگر وہ بھی اس بارے میں سنجیدہ ہیں۔ اور اگر ہم سمجھتے ہیں کہ مذاکرات سے مثبت نتائج مرتب ہوں گے۔‘