’معلومات نہ دینے والے افسروں کو سزا‘

یہ قانون تین ماہ میں صوبائی اسمبلی سے منظور کر لیا جائے گا
،تصویر کا کیپشنیہ قانون تین ماہ میں صوبائی اسمبلی سے منظور کر لیا جائے گا
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں معلومات تک رسائی کے نئے قانون کو بیشتر ماہرین نے اسی نوعیت کے وفاقی قانون سے بہتر قرار دیا ہے۔

خیبر پچتون خوا کے قانون میں بہت سی معلومات کو خفیہ معلومات کے زمرے سے نکال دیا ہے۔ قانونی اور آئینی ماہرین کے مطابق خیبر پختونخوا کے آرڈیننس میں عام فہم زبان استعمال کی گئی ہے لیکن اس میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔

اطلاعات تک رسائی کے اس قانون کے تحت اب تمام سرکاری محکمے بیس دن کے اندر کسی بھی درخواست دہندہ شہری کو معلومات فراہم کرنے کے پابند ہوں گے اور جو ادارہ یا محکمہ معلومات فراہم نہیں کرے گا اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔

غیر سرکاری ادارے ’پِلڈیٹ‘ (PILDAT) کے سربراہ احمد بلال محبوب نے بی بی سی کو بتایا کہ وفاقی سطح پر رائج قانون میں ایک بڑی فہرست ایسی ہے جو خفیہ معلومات کے زمرے میں آتی ہے۔ ان میں نینشل سکیورٹی، ذاتی زندگی کی معلومات اور بین الاقوامی تعلقات جیسے موضوعات شامل ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وفاقی سطح پر رائج معلومات تک رسائی کے قانون پر عمدرآمد کا کوئی طریقۂ کار نہیں ہے اور یہ کہ اگر کوئی افسر معلومات فراہم نہیں کرتا تو اس کے لیے قانون میں کوئی سزا تجویز نہیں کی گئی۔

اس نئے آرڈینیس میں معلومات فراہم نہ کرنے والے سرکاری اہلکاروں کے لیے پچیس ہزار روپے جرمانے تک کی سزا ہے اور اس کے علاوہ اگر کوئی جان بوجھ کر معلومات فراہم نہیں کرتا تو اسے قید کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔

یہ قانون تین ماہ میں صوبائی اسمبلی سے منظور کر لیا جائے گا۔ اس قانون کے تحت ایک خود مختیار انفارمیشن کمیشن قائم کیا جا ئے گا جس کا سربراہ ریٹائرڈ سرکاری افسر ہوگا اور اس کے اراکین میں قانونی ماہر اور ایک ریٹائرڈ جج شامل ہوں گے۔

انفارمیشن کمیشن کے پاس مجسٹریٹ کے اختیار ہوں گے اور جو محکمہ یا افسر معلومات فراہم نہیں کرے گا اسے جرمانے یا قید کی سزا سنائی جا سکے گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض خود مختیار اور نیم خود مختیار اداروں کو اس قانون میں شامل نہیں کیا گیا ہے ۔اسی طرح ماہرین کے مطابق ہائی کورٹ کو بھی اس قانون کے تحت پابند کیا جانا چاہیے اور ہائی کورٹ سے مطلوب معلومات بھی عام آدمی کو فراہم کرنا ضروری ہے۔

ایک غیر سرکاری ادارے کے ڈائریکٹر محمد انور نے بی بی سی کو بتایا کہ اگرچے یہ قانون موجودہ قوانین سے بہت بہتر ہے لیکن اب بھی اس میں مزید بہتری کی گنجائش ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس قانون میں این جی اوز اور دیگر تمام اداروں کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ معلومات خفیہ رکھنے والے موضوعات کی فہرست میں مزید کمی کی جا سکتی ہے اور اس میں بہتری لائی جا سکتی ہے جبکہ معلومات کی تعریف بھی وضاحت سے کی جانی چاہیے۔

قانونی ماہر کامران عارف ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ اس قانون سے احتساب کے عمل میں بہتری لائی جا سکتی ہے ۔ اب یہ معلوم کیا جا سکے گا کہ سرکاری سطح پر یا اراکینِ اسمبلی اور مخِتلف محکمے اور ادارے عام آدمی کی ادا کردہ ٹیکس کی رقم کیسے اور کہاں خرچ کرتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قانون میں ایسے نکات اٹھائے گئے ہیں جس کے تحت سرکاری افسران خوشی سے تمام معلومات کسی بھی درخواست دہندہ کو فراہم کریں گے۔