خیبر پختونخوا:معلومات تک رسائی کا آرڈیننس

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے عام لوگوں کے لیے معلومات تک رسائی کے حق کے لیے آرڈیننس جاری کر دیا ہے جس پر گورنر خبیر پختونخوا کی طرف سے دستخط کرنے کے بعد عمل درآمد کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے اس آرڈیننس کو نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس قانون کے تحت عام آدمی کو یہ حق حاصل ہو گا کہ وہ حکومتی سرگرمیوں پر نظر رکھ سکے اور یہ جان سکے کہ اس کے ٹیکس کا پیسہ کہاں اور کیسے خرچ کیا جا رہا ہے۔
صوبائی حکومت کے ترجمان شیراز پراچہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس قانون کے تحت اب تمام سرکاری محکموں میں عوامی رابطوں کے دفتر قائم کیے جائیں گے جہاں سے عام آدمی تمام معلومات حاصل کر سکے گا۔ یہ دفاتر ایک سو بیس دن کے اندر قائم ہوں گے۔
ان سے جب پوچھا گیا کہ اس طرح کا قانون تو پہلے بھی موجود تھا اور دوسرا یہ کہ بجلی کے بلوں پر شکایات کے لیے ایکسیئن اور ایس ڈی اوز کے نمبر درج ہوتے ہیں لیکن ان نمبرز پر کوئی افسر دستیاب نہیں ہوتے تو ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے کوششیں کی جائے گی کہ کہیں کوئی کوتاہی نہ ہو سکے۔
ہمارے نامہ نگار عزیزاللہ خان کے مطابق پشاور میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا کہ معلومات تک رسائی کا قانون لانے والا خیبر پختونخوا پہلا صوبہ ہے اور اس قانون کے تحت وہ حکومت اور اپنی جماعت پر دباؤ ڈالتے رہیں گے کہ وہ جماعت کے منشور پر مکمل عمل کریں۔
عمران خان نے دعویٰ کیا کہ اس قانون کے بعد احتساب بل ، بلدیاتی نظام کا قانون ، تعلیم اور صحت میں بھی اصلاحات کرائی جائیں گی۔
انھوں نے کہا کہ ان کی حکومت کو قائم ہوئے ابھی صرف پچہتر دن ہوئے ہیں اور ابھی مزید ان کے پاس چند ہفتے ہیں لیکن ایک ماہ کے اندر وہ تمام قانون سازی کا عمل مکمل کر لیں گے۔
عمران خان نے کہا کہ وہ اس وقت تک خیبر پختونخوا کی حکومت میں مداخلت کرتے رہیں گے جب تک کہ انھیں یقین نہیں ہو جاتا کہ ان کے جماعت کے منشور پر مکمل عمل ہو رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ ان اقدامات سے صوبے میں بنیادی تبدیلی نظر آئے گی اور لوگ محسوس کریں گے کہ انھوں نے تحریک انصاف کو ووٹ دے کر کوئی غلطی نہیں کی ہے۔
عمران خان نے اتوار کو این اے ون پشاور ون میں تحریکِ انصاف کے امیدوار گل بادشاہ کی انتخابی ریلی میں بھی شرکت کی۔







