وزیرِاعلیٰ سے جواب طلبی

- مصنف, عزیزاللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
جناب وزیرِاعلیٰ صاحب ’گزشتہ ماہ میرے گھر یلو بجٹ میں دو سو روپے ماہانہ کا اضافہ صرف اس لیے ہوا کہ آپ نے اپنی ذاتی رہائش گاہ کے سامنے سڑک کو حفاظت کی خاطر بند کر دیا ہے، اس لیے مجھے اب طویل چکر لگا کر جانا پڑتا ہے‘۔ یہ الفاظ ایک ریٹائرڈ پروفیسر نے ایک خط میں لکھے ہیں۔
یہ خط وزیر اعلیٰ کے پتے پر نہیں روانہ کیا گیا بلکہ اس خوف سے کہ شاید وزیر اعلیٰ کو ان کے کارندے یہ خط نہیں دے پائیں گے اس لیے پروفیسر صاحب نے یہ خط فیس بک پر ہی اپ لوڈ کردیا ہے ۔
جی ہاں یہ خط لکھا ہے پشاور یونیورسٹی کے شعبہ پولیٹکل سائنس کے ریٹائرڈ پروفیسر اقبال تاجک صاحب نے جو ان دنوں پشاور کے ہی ایک رہائشی علاقے حیات آباد میں مقیم ہیں۔
تاجک صاحب جب پولیٹکل سائنس ڈیپارٹمنٹ میں پڑھاتے تھے تو ان دنوں بھی وہ پشاور یونیورسٹی کے تمام معاملات پر کڑی نظر رکھتے تھے، مثال کے طور پر یونیورسٹی کی سینیٹ اور سینڈیکیٹ کے اجلاس میں کیا ہو رہا ہے چانسلر اور وائس چانسلر یونیورسٹی کے معاملات میں کہیں کوئی کوتاہی تو نہیں برت رہے اور یہ کہ کس استاد نے کہاں سے اور کیسے ڈگری حاصل کی ہے ۔
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے وزیراعلیٰ بننے سے پہلے بڑے وعدے اور دعوے کیے تھے جن میں ایک یہ تھا کہ وہ شہر سے یہ ناکے ہٹا دیں گے کیونکہ لوگ تو تنگ ہیں ہی وہ خود بھی ان غیر ضروری ناکوں سے پریشان ہیں۔
پروفیسر اقبال تاجک سے اس بارے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ در اصل لوگ ان چیزوں سے اب بہت تنگ ہیں لیکن کوئی بول نہیں رہا اس لیے انھوں نے اس کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔
یاد رہے کہ پرویز خٹک وہی وزیر اعلیٰ ہیں جنھوں نے لاہور کا ایک دورہ بغیر کسی اضافی پروٹوکول یا سیکیورٹی کے کیا تھا۔
اس خط میں پروفیسر اقبال تاجک نے مزید لکھا ہے کہ طویل چکر لگانے کی وجہ سے ان کی گاڑی میں اب اضافی ایندھن ڈالنا پڑتا ہے جس سے ان کے ذاتی بجٹ میں دو سو روپے ماہانہ کا اضافہ ہو گیا ہے۔ خط میں وزیر اعلیٰ سے استدعا کی گئی ہے کہ دو سورپے نقد یا بذریعہ چیک اس خط پر تحریر ان کے پتے پر ارسال کرکے ممنون ہونے کا موقع دیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ جب تک یہ سڑک ان کی ذاتی حفاظت کی وجہ سے بند رہتی ہے تب تک ہر ماہ انھیں یہ دو سو روپے ماہانہ بھیجتے رہیں۔
پروفیسر اقبال تاجک کے بقول ان کا خط پانی کا ایک قطرہ ہے اور انھیں امید ہے کہ مزید قطرے گریں گے تو یہ دریا بنے گا۔







