وزیراعلیٰ سمیت رہنماؤں سے پارٹی عہدے واپس

پاکستان تحریکِ انصاف نے صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک، سپیکر اسد قیصر اور صوبائی وزراء سمیت دو عہدے رکھنے والے تمام رہنماؤں سے پارٹی عہدے واپس لے کر ان کی جگہ قائم مقام عہدیداروں کو مقرر کر دیا ہے۔

یہ فیصلہ تحریکِ انصاف کے مرکزی الیکشن کمشنر حامد خان ایڈووکیٹ کی طرف سے جاری کیے گئے ایک اعلامیہ میں کیا گیا ہے۔

حامد خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ پارٹی منشور کے مطابق خیبر پختونخوا میں اعلیٰ سرکاری منصب پر فائز رہنماؤں سے ان کے پارٹی عہدے واپس لے لیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جن رہنماؤں سے پارٹی عہدے واپس لیے گئے ہیں ان کی جگہ قائم مقام عہدیداروں کو مقرر کر دیا گیا جبکہ ان عہدوں کے لیے پارٹی انتخابات بعد میں کیے جائیں گے۔

ادھر تحریکِ انصاف کے جن اہم مرکزی اور صوبائی رہنماؤں سے پارٹی عہدے واپس لیے گئے ہیں ان میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک، سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی اسد قیصر، صوبائی وزراء شوکت علی یوسفزئی، شاہ فرمان اور محمد عاطف شامل ہیں۔ یہ رہنما پی ٹی آئی کے مرکزی اور صوبائی عہدوں پر فائز تھے۔

نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق یہ بھی اطلاعات ہیں کہ وزیراعلیٰ پرویز خٹک اور دیگر رہنماؤں نے پارٹی عہدے چھوڑنے سے انکار کر دیا ہے جبکہ پارٹی کے سربراہ عمران خان نے بھی ملک میں واپس آنے تک اس فیصلے پر عملدرآمد روک دیا ہے۔

جب اس بارے میں حامد خان سے پوچھا گیا تو انھوں نے اس قسم کی اطلاعات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ کوئی وزیراعلیٰ یا وزیر اس وقت تک پارٹی عہدہ نہیں رکھ سکتا جب تک وہ سرکاری منصب نہیں چھوڑتا۔

انہوں نے کہا کہ ان اطلاعات میں کوئی حقیقت نہیں کہ پارٹی سربراہ عمران خان نے اس فیصلے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اس پر عملدرآمد روک دیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ تحریک انصاف کا الیکشن کمیشن ایک آزاد ادارہ ہے جو اپنے فیصلوں میں بھی خودمختار ہے۔

خیال رہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان آج کل برطانیہ کے دورے پر ہیں۔