’بجٹ بہترین ہے‘ ’نہیں الفاظ کا گورگھ دھندہ ہے‘

پاکستان کے وفاقی وزیرِ خزانہ اسحٰق ڈار نے پارلیمان میں سال دو ہزار تیرہ چودہ کے لیے وفاقی بجٹ پیش کر دیا ہے۔
حکمران جماعت مسلم لیگ نواز اور ان کے حامی جہاں اسے ان حالات میں ایک بہتر بجٹ کہہ رہے ہیں وہیں پرحکومت مخالف جماعتیں کہتی ہیں کہ حکومت نے لوگوں کو مہنگائی کے سیلاب کے حوالے کردیا ہے۔
قومی اسمبلی میں وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی بجٹ تقریرکا دفاع کرتے ہوئے مسلم لیگ نون کی حکومتی ٹیم کے اہم رکن اورسابق وزیرِ خزانہ سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ بجٹ میں بہت اچھے اقدامات اٹھائےگئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نیا تجویز کردہ بجٹ نہ صرف ملک میں سرمایہ کاری میں اضافے بلکہ معیشت کی بحالی کا بھی باعث بنےگا۔ان کا کہنا تھا کہ بجٹ میں لوگوں کوکافی سہولت دی جا رہی ہے اورخرچے و مالی خسارے کو کم کیا جا رہا ہے۔
ادھر پیپلز پارٹی کے سابق وفاقی وزیر سید نوید قمر کا کہنا تھا کہ اس بجٹ کے بارے میں معاشرے کا کوئی طبقہ نہیں کہہ سکتا کہ اس سے انہیں کچھ ملا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بجٹ میں سرکاری ملازم کو بری طرح نظرانداز کیا گیا۔
ملک میں توانائی کے پراجیکٹس کے حوالے سے وزیرخزانہ اسحاق ڈارکی تقریرمیں ذکر پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ سارے وہ منصوبے ہیں جو پیپلزپارٹی کی حکومت نے شروع کیے تھے۔
بجٹ میں انکم سپورٹ پروگرام جاری رکھنے اوراس کے لیے مختص رقم میں اضافے پرتبصرہ کرتے ہوئے سید نوید قمر کا کہنا تھا کہ حکومت نے یہ پروگرام تو جاری رکھا لیکن اس سے بے نظیر بھٹو کا نام ہٹا دیا جس سےاندازہ ہوتا ہے کہ انہیں بےنظیرکے نام سے خوف آتا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما غلام سرور خان نے بجٹ پرتبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں تنخواہ دارطبقے کو تنخواہ میں اضافہ دے دینا چاہیے تھا اور پنشن میں بھی جو اضافہ کیا گیا وہ نہ ہونے کے برابر ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ ملک کی 67 فیصد آبادی دیہاتوں میں رہتی ہے اور زراعت کے شعبے سے وابستہ ہے لیکن حکومت نے ان کومکمل طور پر نظرانداز کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بجٹ مجموعی طورپرالفاظ کے گورکھ دھندے کے علاوہ کچھ نہیں۔
ایم کیو ایم کے ڈاکٹرفاروق ستار کا کہنا تھا کہ ایک روایتی اورسٹیٹس کو کا بجٹ عوام پرمسلط کردیا گیا ہے اورسیلز ٹیکس میں اضافے سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا جس سے عام آدمی ہی متاثرہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ بجٹ میں حسبِ روایت پاکستان کی معاشی بیماریوں کا معمولی علاج کیا گیا ہے اوراس بجٹ کے بعد کل سے ملک میں مہنگائی کا نیا سیلاب آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ سادگی کوصحیح معنوں میں اختیار کیا جانا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔
قومی وطن پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیرِداخلہ آفتاب شیرپاؤ کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ نون کی حکومت نے اپنے بجٹ کو پہلے سے جاری منصوبوں پربنایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ میں ہونے والے اقدامات سے ایک بات تو واضح ہے کہ اس میں دہشت گردی سے متاثرہ صوبہ خیبرپختونخوا کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا ہے جہاں کی معیشت دہشت گردی کی وجہ سے تباہ حال ہے اور وہاں سے پیسہ باہرجا رہا ہے۔







