’ٹوٹی پھوٹی معیشت ملی، مگر اس کا محور نجی شعبہ ہو گا‘

 وفاقی وزیر نے بتایا دو ہزار تیرہ میں پاکستان پر قرضے کا بوجھ 14284 ارب روپے ہوگیا ہے
،تصویر کا کیپشن وفاقی وزیر نے بتایا دو ہزار تیرہ میں پاکستان پر قرضے کا بوجھ 14284 ارب روپے ہوگیا ہے
    • مصنف, سارہ حسن
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

وفاقی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں اپنی بجٹ تقریر کے دوران بتایا کہ انھیں گذشتہ حکومت کی کارکردگی کی وجہ سے ’ٹوٹی پھوٹی معیشت‘ دیکھ کر افسوس ہوا اور ان کا کہنا تھا کہ ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ معیشت خودکار طریقے یعنی ’آٹو پائلٹ‘ پر چل رہی تھی۔

انھوں نے سنہ دو ہزار تیرہ، چودہ کے لیے 3985 ارب روپے حجم کا بجٹ پیش کیا ہے جو کہ گذشتہ سال کے بجٹ کے مقابلے میں 24.4 فیصد زیادہ ہے۔

پاکستان کی نو منتخب حکومت نے اپنے پہلے بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر ایک ہزار ارب سے زائد کی رقم مختص کی ہے۔

سالانہ ترقیاتی منصوبے 2013 اور 2014 کے مطابق وفاقی ترقیاتی منصوبوں کے لیے 540 ارب روپے مختص کیےگئے ہیں جبکہ صوبوں کا ترقیاتی بجٹ 615 ارب روپے ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا دو ہزار تیرہ میں پاکستان پر قرضے کا بوجھ 14284 ارب روپے ہوگیا ہے۔

اٹھارویں ترمیم کے تحت زیادہ وسائل صوبوں کو منتقل کیے گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صوبوں کو ترقیاتی منصوبے کے لیے زیادہ فنڈ دیے جا رہے ہیں۔ 30 جون کو ختم ہونے والے مالی سال کے لیے وفاقی ترقیاتی بجٹ کا حجم 360 ارب روپے تھا۔

وفاقی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کی جانب سے قومی اسبمبلی میں پیش کردہ بجٹ تجاویز میں دفاعی امور اور خدمات کے لیے چھ سو ستائیس ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ فوجی اہلکاروں کی پینشن کے لیے اضافی ایک سو بتیس ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

دفاعی بجٹ کا ہجم مجموعی بجٹ کا بیس فیصد ہے۔

اس کے مقابلے میں سویلین حکومت کے اہلکاروں کی تنخواہ اور پینشن کے لیے پچیس ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

وفاقی وزیر نے روایت کے مطابق اپنی تقریر میں دفاعی بجٹ کا مختصر ڈکر کیا اور تفصیلی معلومات بعد میں جاری کیں جائیں گی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اُن کی حکومت کی کوشش ہوگی کہ پاکستان کی معیشت کا محور نجی شعبہ ہوگا اور مارکیٹ نظام کو مضبوط کرنے کے لیے تمام تر کوششیں کیں جائیں گے۔ حکومت صرف اُن شعبوں میں سرمایہ کاری کرئے گی جہاں سرمایہ کاری نجی سیکٹر کے ذریعے نہ ہو سکتی ہو یا معاشی فوائد ہوں۔

انھوں نے تھری جی لائنسنسز کی جلد فروخت اور پی ٹی سی ایل کی فروخت کے سلسلے میں واجب الادا اسّی کڑور ڈالر کی وصولی کا بھی اعلان کیا۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ مراعات اور چھوٹ کے ذریعے خود انحصاری نہیں حاصل کی جاسکتی۔

وفاقی وزیر نے پاکستان ریلوے کو کارپوریشن میں تبدیل کرنے کا اعلان بھی کیا جس میں نوکریوں کو تحفظ حاصل ہوگا۔

وفاقی ترقیاتی بجٹ کے تحت آئندہ مالی سال کے دوران توانائی کے شعبے میں بہتری کے لیے زیادہ رقم مختص کی گئی ہے اور مجموعی طور پر 225 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ جس میں سے 107 ارب روپے حکومت دی گی جبکہ واپڈا اور پیپکو 118 ارب روپے اپنے ذرائع سے اکٹھے کریں گے۔

انھوں نے بتایا کہ چار سو پچیس میگا واٹ صلاحیت والے نندی پور پروجیکٹ کی مشینری تین سال سے کراچی پورٹ پر موجود ہے مگر حکومتی کاغذات کی عدم تیاری کی وجہ سے اس پروجیکٹ کو شروع نہیں کیا جا سکا ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت اس پروجیکٹ پر فوری کام شروع کرنے کو ہے۔

بڑے آبی ذخائر میں دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لیے وفاقی ترقیاتی بجٹ میں 8 ارب 20 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ ڈیم بنانے کے لیے زمین کی خریداری کے لیے 17 ارب روپے رکھی گئے ہیں۔ بجٹ میں آبی ذخائر کی تعمیر کے لیے 59 ارب مقرر کیے گئے ہیں۔

ذرائع نقل و حمل کے منصوبوں کے لیے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 105 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ جن میں سے پاکستان ریلوے کا ترقیاتی بجٹ کا حجم31 ارب روپے ہے اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی NHA کے لیے 63 ارب روپے رکھیں گئے ہیں۔

وفاقی بجٹ میں تعلیمی منصوبوں کی تعمیر کے لیے 25 ارب روپے اور بہبودِ آبادی اور صحتِ عامہ کے لیے بھی 25 ارب روپے مختص کیے ہیں۔

سالانہ ترقیاتی پروگرام میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے، گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

ترقیاتی بجٹ میں سابق حکومت کے پیپلز ورک پروگرام کو تعمیر پاکستان پروگرام میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور تعمیرِ پاکستان پروگرام کے لیے 5 ارب روپے رکھیں گئے ہیں جبکہ پیپلز روک پروگرام ٹو کے صوابیدی فنڈ ختم کر دئیے گئے ہیں۔